آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 342

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۴۲ آئینہ کمالات اسلام اب غور سے اس معرفت کے دقیقہ کو سنو کہ حضرت سیح علیہ السلام کو دو مرتبہ یہ موقعہ پیش آیا کہ ان کی روحانیت نے قائم مقام طلب کیا اول جبکہ ان کے فوت ہونے پر چھ سو برس گزر گیا اور یہودیوں نے اس بات پر حد سے زیادہ اصرار کیا کہ وہ تعوذ باللہ مکار اور کاذب تھا اور اس کا ناجائز طور پر تولد تھا اور اسی لئے وہ مصلوب ہوا اور عیسائیوں نے اس بات پر غلو کیا کہ وہ خدا تھا اورخدا کا بیٹاتھا اور دنیا کونجات دینے کیلئے اس نے صلیب پر جان دی۔ پس جب کہ مسیح علیہ السلام کی بابرکت شان میں نابکار یہودیوں نے نہایت خلاف تہذیب جرح کی اور بموجب توریت کی اس آیت کے جو کتاب استثنا میں ہے کہ جو شخص صلیب پر کھینچا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے۔ نعوذ باللہ حضرت مسیح علیہ السلام و عنتی قرار دیا اور منی اور کاذب او نا پاک پیدائش والا ٹھہرایا اور عیسائیوں نے ان کی مدح میں اطراء کر کے ان کو خداہی بنادیا اور ان پر یہ تہمت لگائی کہ یہ تعلیم انہیں کی ہے تب بہ اعلام الہی مسیح کی روحانیت جوش میں آئی اور اس نے ان تمام الزاموں سے اپنی بریت چاہی اور خدا تعالیٰ سے اپنا قائم مقام چاہا تب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے جن کی بعثت کی اغراض کثیرہ میں سے ایک یہ بھی غرض تھی کہ ان تمام بیجا الزاموں سے مسیح کا دامن پاک ثابت کریں اور اس کے حق میں صداقت کی گواہی دیں یہی وجہ ہے کہ خود مسیح نے یوحنا کی انجیل کے ۱۶ باب میں کہا ہے کہ میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ تمہارے لئے میرا جانا ہی فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو تسلی دینے والا ( یعنی مدصلی اللہ علیہ وسلم) تم پاس نہ آئے گا پھر اگر میں جاؤں تو اسے تم پاس بھیج دوں گا اور وہ آکر دنیا کو گناہ سے اور راستی سے اور عدالت سے تقصیر وار ٹھہرائے گا۔ گناہ سے اسلئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لائے۔ راستی سے اس لئے کہ میں اپنے باپ پاس جاتا ہوں اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔ عدالت سے اس لئے کہ اس جہان کے سردار پر حکم کیا گیا ہے۔ جب وہ روح حق آئے گی تو تمہیں ساری سچائی کی راہ بتاوے گی۔ وہ روح حق میری بزرگی کرے گی اسلئے کہ وہ میری چیزوں سے پائے گی ہم ۔ تسلی دینے والا جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب چیزیں سکھائے گا۔ لوقا ۔ میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ مجھے کونہ دیکھو گے اس وقت تک کہ تم کہو گے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر ( یعنی مسیح علیہ السلام کے نام پر آتا ہے ان آیات میں میچ کا یہ فقرہ کہ میں اسے تم پاس بھیج دوں گا اس بات پر صاف دلالت کرتا ہے کہ میسیج کی روحانیت اس کے آنے کیلئے نقاضا کرے گی اور یہ فقرہ کہ باپ اس کو میرے نام سے بھیجے گا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ آنے والا مسیح کی تمام روحانیت پائے گا اور اپنے کمالات کی ایک شاخ کی رو سے وہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ”مفتری یا متفنی “ ہونا چاہیے (ناشر) د یوحنا باب ۱۴ آیت ۲۶- (ناشر) سہو کتابت ہے ”لو قاباب۱۳ آیت ۳۵ ہونا چاہیے۔(ناشر ) وہ