آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 335 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 335

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۳۵ آئینہ کمالات اسلام تم یہ کہیں کہ آفتاب کے وجود پر ایمان لائے اور زمین پر ایمان لائے کہ موجود ہے اور چاند کے ۳۳۵ موجود ہونے پر بھی ایمان لائے اور اس بات پر ایمان لائے کہ دنیا میں گدھے بھی ہیں اور گھوڑے بھی اور خچر بھی اور بیل بھی اور طرح طرح کے پرند بھی تو کیا اس ایمان سے کسی ثواب کی توقع ہوسکتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ جب ہم مثلاً ملائک کے وجود پر ایمان لاتے ہیں تو خدائے تعالیٰ کے نزدیک مومن ٹھہرتے ہیں اور مستحق ثواب بنتے ہیں اور جب ہم ان تمام حیوانات پر ایمان لاتے ہیں جو زمین پر ہماری نظر کے سامنے موجود ہیں تو ایک ذرہ بھی ثواب نہیں ملتا حالانکہ ملائک اور دوسری سب چیزیں برابر خدائے تعالیٰ کی مخلوق ہیں پس اس کی یہی وجہ ہے کہ ملائک پردہ غیب میں ہیں اور دوسری چیز یں یقینی طور پر ہمیں معلوم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن ایمان لا نا منظور نہیں ہوگا۔ یعنے اگر اس وقت کوئی شخص خدا تعالیٰ کی تجلیات دیکھ کر اور اس کے ملائک اور بہشت اور دوزخ کا مشاہدہ کر کے یہ کہے کہ اب میں ایمان لایا تو منظور نہ ہوگا۔ کیوں منظور نہ ہوگا ؟ اسی وجہ سے کہ اس وقت کوئی پردہ غیب درمیان نہ ہوگا تا اس سے ماننے والے کا صدق ثابت ہو۔ اب پھر ذراغور کر کے اس بات کو سمجھ لینا چاہیئے کہ ایمان کس بات کو کہتے ہیں اور ایمان لانے پر کیوں ثواب ملتا ہے۔ امید ہے کہ آپ بفضلہ تعالی تھوڑا سا فکر کر کے اس بات کو جلد سمجھ جائیں گے کہ ایمان لانا اس طرز قبول سے مراد ہے کہ جب بعض گوشے یعنے بعض پہلو کسی حقیقت کے جس پر ایمان لایا جاتا ہے مخفی ہوں اور نظر دقیق سے سوچ کر اور قرائن مرجحہ کو دیکھ کر اس حقیقت کو قبل اس کے کہ وہ بگلی کھل جائے قبول کر لیا جائے یہ ایمان ہے جس پر ثواب مترتب ہوتا ہے اور اگر چہ رسولوں اور نبیوں اور اولیاء کرام علیہم السلام سے بلاشبہ نشان ظاہر ہوتے ہیں مگر سعید آدمی جو خدائے تعالیٰ کے پیارے ہیں ان نشانوں سے پہلے اپنی فراست صحیحہ کے ساتھ قبول کر لیتے ہیں اور جولوگ نشانوں کے بعد قبول کرتے ہیں وہ لوگ خدائے تعالیٰ کی نظر میں ذلیل اور بے قدر ہیں بلکہ قرآن کریم بآواز بلند بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ نشان دیکھنے کے بغیر حق کو قبول نہیں کر سکتے وہ نشان کے بعد بھی قبول نہیں کرتے۔ کیونکہ نشان کے ظاہر ہونے سے پہلے وہ بالجبر منکر ہوتے ہیں اور علانیہ کہتے پھرتے ہیں کہ ی شخص کذاب اور جھوٹا ہے کیونکہ اس نے کوئی نشان نہیں دکھلایا اور ان کی ضلالت کا زیادہ یہ موجب ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ بھی باعث آزمائش اپنے بندوں کے نشان دکھلانے میں عمداً