آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 336 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 336

روحانی خزائن جلد ۵ ٣٣٦ آئینہ کمالات اسلام ۳۳۶ تاخیر اور توقف ڈالتا ہے اور وہ لوگ تکذیب اور انکار میں بڑھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ انکار میں ترقی کرتے کرتے اپنی راؤں کو پختہ کر لیتے ہیں اور دعویٰ سے کہنے لگتے ہیں کہ در حقیقت یہ شخص کذاب ہے مفتری ہے مکار ہے دروغ گو ہے جھوٹا ہے اور منجانب اللہ نہیں ہے پس جب وہ شدت سے اپنی رائے کو قائم کر چکتے ہیں اور تقریروں کے ذریعہ سے اور تحریروں کے ذریعہ سے اور مجلسوں میں بیٹھ کر اور منبروں پر چڑھ کر اپنی مستقل رائے دنیا میں پھیلا دیتے ہیں کہ در حقیقت یہ شخص کذاب ہے تب اس وقت عنایت الہی توجہ فرماتی ہے کہ اپنے عاجز بندے کی عزت اور صداقت ظاہر کرنے کیلئے کوئی اپنا نشان ظاہر کرے۔ سو اس وقت کوئی غیبی نشان ظاہر ہوتا ہے جس سے صرف وہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو پہلے مان چکے تھے اور انصار حق میں داخل ہو گئے تھے یا وہ جنہوں نے اپنی زبانوں اور اپنی قلموں اور اپنے خیالات کو مخالفانہ اظہار سے بچا لیا تھا لیکن وہ بدنصیب گروہ جو مخالفانہ راؤں کو ظاہر کر چکے تھے وہ نشان دیکھنے کے بعد بھی اس کو قبول نہیں کر سکتے کیونکہ وہ تو اپنی را ئیں علی رؤس الا شہاد شائع کر چکے۔ اشتہار دے چکے مہریں لگا چکے کہ یہ شخص در حقیقت کذاب ہے اس لئے اب اپنی مشہور کردہ رائے سے مخالف اقرار کرنا ان کے لئے مرنے سے بھی زیادہ سخت ہو جاتا ہے کیونکہ اس سے ان کی ناک کٹتی ہے اور ہزاروں لوگوں پر ان کی حماقت ثابت ہوتی ہے کہ پہلے تو بڑے زور شور سے دعوی کرتے تھے کہ یہ شخص ضرور کا ذب ہے ضرور کا ذب ہے اور قسمیں کھاتے اور اپنی عقل اور علمیت جتلاتے تھے اور اب اسی کی تائید کرتے ہیں۔ اور میں پہلے اس سے بیان کر چکا ہوں کہ ایمان لانے پر ثواب اسی وجہ سے ملتا ہے کہ ایمان لانے والا چند قرائن صدق کے لحاظ سے ایسی باتوں کو قبول کر لیتا ہے کہ وہ ہنوز مخفی ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ نے مومنوں کی تعریف قرآن کریم میں فرمائی ہے کہ یؤمنون بالغیب یعنی ایسی بات کو مان لیتے ہیں کہ وہ ہنوز در پردہ غیب ہے جیسا کہ صحابہ کرام نے ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا اور کسی نے نشان نہ مانگا اور کوئی ثبوت طلب نہ کیا اور گو بعد ا سکے اپنے وقت پر بارش کی طرح نشان بر سے اور منجزات ظاہر ہوئے لیکن صحابہ کرام ایمان لانے میں معجزات کے محتاج نہیں ہوئے اور اگر وہ معجزات کے دیکھنے پر ایمان موقوف رکھتے تو ایک