آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 333 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 333

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۳۳ آئینہ کمالات اسلام قرآن کریم میں تعریف کے ساتھ بیان نہیں کئے اور اپنا غضب ظاہر کیا ہے جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے ﴿۳۳۳ وَ أَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَبِنْ جَاءَتْهُمْ آيَةً لَيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إِنَّمَا الْآيَتُ عِنْدَ اللَّهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ لے یعنی یہ لوگ سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر کوئی نشان دیکھیں تو ضرور ایمان لے آئیں گے۔ ان کو کہہ دے کہ نشان تو خدائے تعالیٰ کے پاس ہیں اور تمہیں خبر نہیں کہ جب نشان بھی دیکھیں گے تو کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ پھر فرماتا ہے۔ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ أَيْتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ کے یعنی جب بعض نشان ظاہر ہوں گے تو اس دن ایمان لانا بے سود ہوگا اور جو شخص صرف نشان کے دیکھنے کے بعد ایمان لایا ہے اس کو وہ ایمان نفع نہیں د۔ نفع نہیں دے گا۔ پھر فرماتا ہے وَ يَقُولُونَ مَتَى هُذَا الْوَعْدُ إِنْ د كُنتُمْ صَدِقِينَ - قُلْ لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي ضَرًّا وَلَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ، الخ یعنی کافر کہتے ہیں کہ وہ نشان کب ظاہر ہوں گے اور یہ وعدہ کب پورا ہو گا سوان کو کہہ دے کہ مجھے ان باتوں میں دخل نہیں نہ میں اپنے نفس کیلئے ضرر کا مالک ہوں نہ نفع کا مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک گروہ کے لئے ایک وقت مقرر ہے جو ٹل نہیں سکتا اور پھر اپنے رسول کو فرماتا ہے۔ وَإِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَبْتَغِي نَفَقًا فِي الْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُمْ بِآيَةٍ وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجِهِلِينَ کے یعنی اگر تیرے پر (اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کافروں کا اعراض بہت بھاری ہے سو اگر تجھے طاقت ہے تو زمین میں سرنگ کھود کر یا آسمان پر زمینہ لگا کر چلا جا اور ان کے لئے کوئی نشان لے آ اور اگر خدا چاہتا تو ان سب کو جو نشان مانگتے ہیں ہدایت دے دیتا۔ پس تو جاہلوں میں سے مت ہو۔ اب ان تمام آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کا فرنشان مانگا کرتے تھے بلکہ قسمیں بھی کھاتے تھے کہ ہم ایمان لائیں گے مگر اللہ جل شانہ کی نظر میں وہ مورد غضب تھے اور ان کے سوالات بے ہودہ تھے بلکہ اللہ جل شانۂ صاف صاف فرماتا ہے کہ جو شخص نشان دیکھنے کے بعد ایمان لاوے اس کا ایمان مقبول نہیں جیسا کہ ابھی آیت لا ينفع نفسا ایمانها تحریر ہو چکی ہے اور اسی کے قریب قریب ایک دوسری آیت ہے اور وہ یہ ہے وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى قُلُوْبِ الْكَفِرِينَ 2 یعنی الانعام : ۱۱ - الانعام : ۱۵۹ ۳ یونس : ۵۰،۴۹ الانعام : ۳۶ ۵ الاعراف : ۱۰۲