آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 332

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۳۲ آئینہ کمالات اسلام ۳۳۲) بھی ان کا وہ جوش نہ تھا جو بعد اس کے ہوا لیکن اب تالیف آئینہ کمالات اسلام کے بعد تفہیم اپنے کمال کو پہنچ گئی اور اب اس کتاب کے دیکھنے سے ایک ادنی استعداد کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ مخالف لوگ اپنی رائے میں سراسر خطا پر ہیں۔ اس لئے مجھے حکم ہوا ہے کہ میں مباہلہ کی درخواست کو کتاب آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ شائع کروں۔ سو وہ درخواست انشاء اللہ القدیر پہلے حصہ کے ساتھ ہی شائع ہوگی۔ اول دنوں میں میرا یہ بھی خیال تھا کہ مسلمانوں سے کیونکر مباہلہ کیا جائے کیونکہ مباہلہ کہتے ہیں ایک دوسرے پر لعنت بھیجا اور مسلمان پر لعنت بھیجا جائز نہیں مگر اب چونکہ وہ لوگ بڑے اصرار سے مجھ کو کا فر ٹھہراتے ہیں اور حکم شرع یہ ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو کافر ٹھہرادے اگر وہ شخص در حقیقت کا فرنہ ہو تو وہ کفر الٹ کر اسی پر پڑتا ہے جو کافر ٹھہراتا ہے۔ اسی بناء پر مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ جو لوگ تجھ کو کا فرٹھہراتے ہیں اور ابناء اور نساء رکھتے ہیں اور فتویٰ کفر کے پیشوا ہیں ان سے مباہلہ کی درخواست کر۔ (۲) نشان کے بارے میں جو آپ نے لکھا ہے یہ بھی درست ہے در حقیقت انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ اول وہ جو زیرک اور زکی ہیں اور اپنے اندر قوت فیصلہ رکھتے ہیں اور متخاصمین کی قیل و قال میں سے جو تقریر حق کی عظمت اور برکت اور روشنی اپنے اندر رکھتی ہے اس تقریر کو پہچان لیتے ہیں اور باطل جو تکلف اور بناوٹ کی بد بو رکھتا ہے وہ بھی ان کی نظر سے پوشیدہ نہیں رہتا۔ ایسے لوگ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شناخت کیلئے اس بات کے محتاج نہیں ہو سکتے کہ ان کے سامنے سوٹی کا سانپ بنایا جاوے اور نہ حضرت عیسی علیہ السلام کی شناخت کیلئے حاجت مند ہو سکتے ہیں کہ ان کے ہاتھ سے مفلوجوں اور مجز وموں کو اچھے ہوتے دیکھ لیں اور نہ ہمارے سید و مولیٰ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ایسے اعلیٰ درجہ کے لوگوں نے کبھی معجزہ طلب کیا۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ صحابہ کبار رضی اللہ عنہم کوئی معجزہ دیکھ کر ایمان لائے تھے بلکہ وہ ز کی تھے اور نور قلب رکھتے تھے۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ دیکھ کر ہی پہچان لیا تھا کہ یہ جھوٹوں کا منہ نہیں ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے نزدیک صدیق اور راستباز ٹھہرے انہوں نے حق کو دیکھا اور ان کے دل بول اٹھے کہ یہ منجانب اللہ ہے۔ دوسری قسم کے وہ انسان ہیں جو معجزہ اور کرامت طلب کرتے ہیں ان کے حالات خدا تعالیٰ نے