آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 331
روحانی خزائن جلد ۵ ۳۳۱ آئینہ کمالات اسلام اس خط کو کم سے کم تین مرتبہ غور سے پڑھیں یہ خط اگر چہ بظاہر آپ کے نام ہے لیکن اس کی بہت سی عبارتیں دوسروں کے اوہام دور کرنے کے لئے ہیں گو بظاہر آپ ہی مخاطب ہیں۔ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي مجی و عزیزی اخویم نواب محمد علی خان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام عليكم و رحمة الله و برکاتہ ایک ہفتہ سے ہلکہ عشرہ سے زیادہ گذر گیا کہ آں محب کا محبت نامہ پہنچا تھا چونکہ اس میں امور مستفسرہ بہت تھے اور مجھے بباعث تالیف کتاب آئینہ کمالات اسلام بغایت درجہ کی فرصت تھی کیونکہ ہر روز مضمون طیار کر کے دیا جاتا ہے۔ اس لئے میں جواب لکھنے سے معذور رہا اور آپ کی طرف سے تقاضا بھی نہیں تھا۔ آج مجھے خیال آیا کہ چونکہ آپ ایک خالص محب ہیں اور آپ کا استفسار سراسر نیک ارادہ اور نیک نیت پر مبنی ہے اس لئے بعض امور سے آپ کو آگاہ کرنا اور آپ کے لئے جو بہتر ہے اس سے اطلاع دینا ایک امر ضروری ہے۔ لہذا چند سطور آپ کی آگاہی کے لئے ذیل میں لکھتا ہوں۔ یہ بیچ ہے کہ جب سے اس عاجز نے مسیح موعود ہونے کا دعوی بامر اللہ تعالیٰ کیا ہے تب سے وہ لوگ جو اپنے اندر قوت فیصلہ نہیں رکھتے عجب تذبذب اور کشمکش میں پڑ گئے ہیں اور آپ فرماتے ہیں کہ قیل و قال سے فیصلہ نہیں ہوسکتا مباہلہ کے لئے اب طیار ہونا چاہیے اور آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ کوئی نشان بھی دکھلانا چاہیے۔ (۱) مباہلہ کی نسبت آپ کے خط سے چند روز پہلے مجھے خود بخود اللہ جل شانه نے اجازت دے دی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے ارادہ سے آپ کے ارادہ کا توارد ہے کہ آپ کی طبیعت میں یہ جنبش پیدا ہوئی ۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اب اجازت دینے میں حکمت یہ ہے کہ اوّل حال میں صرف اس لئے مباہلہ نا جائز تھا کہ ابھی مخالفین کو بخوبی سمجھایا نہیں گیا تھا اور وہ اصل حقیقت سے سراسر نا واقف تھے اور تکفیر پر ۳۳۱