آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 322

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۲۲ آئینہ کمالات اسلام (۳۲۲) کیا گیا ہے یعنی یہ کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور مکالمہ الہیہ سے مشرف ہوں اور مامور من اللہ ہوں اور میری صداقت کا نشان یہ پیشگوئی ہے ۔ اب آپ اگر کچھ بھی اللہ جل شانہ کا خوف رکھتے ہیں تو سمجھ سکتے ہیں کہ ایسی پیشگوئی جو منجانب اللہ ہونے کے لئے بطور ثبوت کے پیش کی گئی ہے اسی حالت میں کچی ہوسکتی تھی کہ جب در حقیقت یہ عاجز منجانب اللہ ہو کیونکہ خدا تعالیٰ ایک مفتری کی پیشگوئی کو جو ایک جھوٹے دعویٰ کیلئے بطور شاہد صدق بیان کی گئی ہرگز بچی نہیں کر سکتا۔ وجہ یہ کہ اس میں خلق اللہ کو دھو کا لگتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانه خود مدعی صادق کیلئے یہ علامت قرار دے کر فرماتا ہے وَ اِنْ يَّكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ ۔ اور فرماتا ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ - رسول کا لفظ عام ہے جس میں رسول اور نبی اور محدث داخل ہیں ۔ پس اس پیشگوئی کے الہامی ہونے کیلئے ایک مسلمان کے لئے یہ دلیل کافی ہے جو منجانب اللہ ہونے کے دعوی کے ساتھ یہ پیشگوئی بیان کی گئی اور خدا تعالیٰ نے اس کو کچی کر کے دکھلا دیا اور اگر آپ کے نزدیک یہ ممکن ہے کہ ایک شخص دراصل مفتری ہو اور سراسر دروغ گوئی سے کہے کہ میں خلیفتہ اللہ اور مامور من اللہ اور مجز دوقت اور مسیح موعود ہوں اور میرے صدق کا نشان یہ ہے کہ اگر فلاں شخص مجھے اپنی بیٹی نہیں دے گا اور کسی دوسرے سے نکاح کر دے گا تو نکاح کے بعد تین برس تک بلکہ اس سے بہت قریب فوت ہو جائے گا اور پھر ایسا ہی واقعہ ہو جائے تو برائے خدا اس کی نظیر پیش کرو ورنہ یا درکھو کہ مرنے کے بعد اس انکار اور تکذیب اور تکفیر سے پوچھے جاؤ گے۔ خدا تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ اِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفُ كَذَّابٌ سوچ کر دیکھو کہ اس کے یہی معنی ہیں جو شخص اپنے دعوئی میں کاذب ہو اس کی المؤمن : ٢٩ الجن : ۲۸۲۷ المؤمن : ٢٩