آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 308 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 308

روحانی خزائن جلد ۵ ٣٠٨ آئینہ کمالات اسلام ۳۰۸) تھے۔ آپ کے تو والد صاحب بھی بیماری اور تپ کی حالت میں بھی بٹالہ سے افتاں خیزاں میرے پاس آ جاتے تھے پھر آپ کو نئی روک کون سی پیش آ گئی تھی اور جبکہ آپ اپنے ذاتی بخل اور ذاتی حسد اور شیخ نجدی کے خصائل اور کبر اور نخوت کو کسی حالت میں چھوڑنے والے نہیں تھے تو میں آپ کو اپنے مکان پر بلا کر کیا ہمدردی اور رحمت کرتا ۔ ہاں میں نے آپ کے مکان پر بھی جانا خلاف مصلحت سمجھا کیونکہ میں نے آپ کے مزاج میں کبر اور نخوت کا مادہ معلوم کر لیا تھا اور میرے نزدیک یہ قرین مصلحت تھا کہ آپ کو ایک مسہل دیا جائے ! بائے اور جہاں تک ہو سکے وہ مادہ آب مادہ آپ کے اندر سے باستیفا نکال دیا جائے ۔ سو اب تک تو کچھ تخفیف معلوم نہیں ہوتی خدا جانے کس غضب کا مادہ آپ کے پیٹ میں بھرا ہوا ہے اور اللہ جل شانۂ جانتا ہے کہ میں نے آپ کی بد زبانی پر بہت صبر کیا ۔ بہت ستایا گیا اور آپ کو رو کے گیا اور اب بھی آپ کی بد گوئی اور تکفیر تفسیق پر بہر حال صبر کر سکتا ہوں لیکن بعض اوقات محض اس نیت سے پیرا یہ درشتی آپ کی بد گوئی کے مقابلہ میں اختیار کرتا ہوں کہ تا وہ مادہ خبیث کہ جو مولویت کے باطل تصور سے آپ کے دل میں جما ہوا ہے اور جن کی طرح آپ کو چمٹا ہوا ہے وہ بکلی نکل جائے ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں اور خدائے تعالیٰ جانتا ہے کہ میں علی وجہ البصیرت یقین رکھتا ہوں کہ آپ صرف استخوال استخوان فروش ہیں اور علم ا ہیں اور علم اور درایت اور تفقہ سے سخت بے بہرہ اور ایک غبی اور بلید آدمی ہیں ۔ جن کو حقائق اور معارف کے کوچہ کی طرف ذرہ بھی گذر نہیں اور ساتھ اس کے یہ بلاگی ہوئی ہے کہ ناحق کے تکبر اور نخوت نے آپ کو ہلاک ہی کر دیا ہے ۔ جب تک آپ کو اپنی اس جہالت پر اطلاع نہ ہو اور دماغ سے غرور کا کیڑا نہ نکلے تب تک آپ نہ کوئی دنیا کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں