آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 309

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۰۹ آئینہ کمالات اسلام نہ دین کی ۔ آپ کا بڑا دوست وہ ہوگا جو اس کوشش میں لگا ر ہے جو آپ کی جہالتیں اور نخوتمیں (۳۰۹) آپ پر ثابت کرے میں نہیں جانتا کہ آپ کو کس بات پر ناز ہے۔شرمناک فطرت کے ساتھ اور اس موٹی سمجھ اور سطحی خیال پر یہ تکبر اور یہ ناز نعوذ بالله من هذه الجهالة والحمق و ترك الحياء والسخافة والضلالة ۔ اور آپ کا یہ خیال کہ میں نے اب فساد کیلئے خط بھیجا ہے تا بٹالہ کے مسلمانوں میں پھوٹ پڑے۔ عزیز من یہ آپ کے فطرتی تو ہمات ہیں ۔ میں نے پھوٹ کیلئے نہیں بلکہ آپ کی حالت زار پر رحم کر کے خط بھیجا تھا تا آپ تحت الثریٰ میں نہ گر جائیں اور قبل از موت حق کو سمجھ لیں مسلمانوں میں تفرقہ اور فتنہ ڈالنا تو آپ ہی کا شیوہ ہے یہی تو آپ کا مذہب اور طریق ہے جس کی وجہ سے آپ نے ایک مسلمان کو کافر اور بے ایمان اور دجال قرار دیا اور علماء کو دھو کے دیگر تکفیر کے فتوے لکھوائے اور اپنے استاد نذر حسین پر موت کے دنوں کے قریب یہ احسان کیا کہ اسکے منہ سے کلمہ تکفیر کہلوایا اور اسکی پیرانہ سالی کے تقویٰ پر خاک ڈالی ۔ آفرین باد برین ہمت مردانہ تو ۔ نذیر حسین تو ارذل عمر میں مبتلا اور بچوں کی طرح ہوش و حواس سے فارغ تھا۔ یہ آپ ہی نے شاگردی کا حق ادا کیا کہ اسکے اخیر وقت اور لب بام ہونے کی حالت میں ایسی مکر وہ سیاہی اسکے منہ پرمل دی کہ اب غالبا وہ گور میں ہی اس سیا ہی کو لیجائے گا ۔ خدائے تعالیٰ کی درگاہ خالہ جی کا گھر نہیں ہے جو شخص مسلمان کو کافر کہتا ہے اس کو وہی نتائج بھگتنے پڑیں گے جن کا ناحق کے مکفرین کیلئے اس رسول کریم نے وعدہ دے رکھا ہے جو ایسا عدل دوست تھا جس نے ایک چور کی سفارش کے وقت سخت ناراض ہو کر فرمایا تھا کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر فاطمہ بنت محمد چوری