آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 303

روحانی خزائن جلد ۵ ٣٠٣ آئینہ کمالات اسلام صاحب کے انتقال کے بعد کبھی میں نے بجز اس خط کے مقدمہ کے جس کا ذکر کر چکا (۳۰۳) ہوں کوئی مقدمہ کیا ہو ۔ اگر میں مقدمہ کرنے سے بالطبع متنفر نہ ہوتا۔ میں والد صاحب کے انتقال کے بعد جو پندرہ سال کا عرصہ گذر گیا آزادی سے مقدمات کیا کرتا اور پھر یہ بھی یادر ہے کہ ان مقدمات کا مہاجنوں کے مقدمات پر قیاس کرنا کور باطن آدمیوں کا کام ہے۔ میں اس بات کو چھپا نہیں سکتا کہ کئی پشت سے میرے خاندان میں زمینداری چلی آتی ہے اور اب بھی ہے ۔ اور زمیندار کوضر ور نا کبھی مقدمہ کی حاجت پڑ جاتی ہے مگر یہ امر ایک منصف مزاج کی نظر میں حرج کا محل نہیں ٹھہر سکتا ۔ حدیثوں کو پڑھو کہ وہ آخری زمانہ میں آنے والا اور اس زمانہ میں آنے والا کہ جب قریش سے بادشاہی جاتی رہے گی اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک تفرقہ اور پریشانی میں پڑی ہوئی ہوگی زمیندار ہی ہوگا۔ اور مجھ کو خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ میں ہوں ۔ احادیث نبویہ میں صاف لکھا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک مؤید دین و ملت پیدا ہوگا اور اس کی یہ علامت ہوگی کہ وہ حارث ہوگا یعنی زمیندار ہو گا۔ اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر یک مسلمان کو چاہیے کہ اس کو قبول کر لیوے اور اس کی مدد کرے۔ اب سوچو کہ زمیندار ہونا تو میرے صدق کی ایک علامت ہے نہ جائے جرح ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبول کرنے کے لئے حکم ہے نہ رو کے لئے ۔ چشم بداندیش که بر کنده باد عیب نماید هنرش در نظر ہاں مقدمہ بازی آپ کے والد صاحب کی جائے حرج ہو تو کچھ تعجب نہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ انگریزی عملداری میں اکثر سود خواروں کی مختار کاری میں ان کی عمر بسر ہوئی اور جس طرح بن پڑا انہوں نے بعض لوگوں کے مقدمے محنتانہ پر لئے ۔ گو وہ قانونی طور پر نہ مختار