آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 302
روحانی خزائن جلد ۵ ۳۰۲ آئینہ کمالات اسلام (۳۰۲) سے محبت رکھتا ہو وہ بالطبع دروغ سے نفرت رکھتا ہے اور جب کوئی دنیوی فائدہ جھوٹ بولنے پر ہی موقوف ہو تو اس فائدہ کو چھوڑ دیتا ہے مگر افسوس کہ نجاست خوار انسان ہر یک انسان کو نجاست خوار ہی سمجھتا ہے۔ جھوٹ بولنے والے ہمیشہ کہا کرتے ہیں کہ بغیر جھوٹ بولنے کے عدالتوں میں مقدمہ نہیں کر سکتے ۔ سو یہ قول ان کا اس حالت میں سچا ہے کہ جب ایک مقدمہ باز کسی حالت میں اپنے نقصان کا روادار نہ ہو اور خواہ مخواہ ہر ایک مقدمہ میں کامیاب ہونا چاہیے مگر جو شخص صدق کو بہر حال مقدم رکھے وہ کیوں ایسا کرے گا جب کسی نے اپنا نقصان گوارا کر لیا تو پھر وہ کیوں کذب کا محتاج ہوگا ۔ اب یہ بھی واضح رہے کہ یہ سچ ہے کہ والد مرحوم کے وقت میں مجھے بعض اپنے زمینداری معاملات کے حق رسی کے لئے عدالتوں میں جانا پڑتا تھا مگر والد صاحب کے مقدمات صرف اس قسم کے تھے کہ بعض آسامیاں جو اپنے ذمہ کچھ باقی رکھ لیتی تھیں یا کبھی بلا اجازت کوئی درخت کاٹ لیتی تھیں یا جب بعض دیہات کے نمبر داروں سے تعلق داری کے حقوق بذریعہ عدالت وصول کرنے پڑتے تھے اور وہ سب مقدمات بوجہ اس احسن انتظام کے کہ محاسب دیہات یعنی پٹواری کی شہادت اکثر ان میں کافی ہوتی تھی پیچیدہ نہیں ہوتی تھی اور دروغ گوئی کو ان سے کچھ تعلق نہیں تھا کیونکہ تحریرات سرکاری پر فیصلہ ہوتا تھا۔ اور چونکہ اس زمانہ میں زمین کی بے قدری تھی اس لئے ہمیشہ زمینداری میں خسارہ اٹھا نا پڑتا اور بسا اوقات کم مقدمات کا شتکاروں کے مقابل پر خود نقصان اٹھا کر رعایت کرنی پڑتی تھی اور عقلمند لوگ جانتے ہیں کہ ایک دیانتدار زمیندار اپنے کاشتکاروں سے ایسا برتاؤ رکھ سکتا ہے جو بحیثیت پورے متقی اور کامل پر ہیز گار کے ہو اور زمینداری اور نکو کاری میں کوئی حقیقی مخالفت اور ضد نہیں ۔ با ایں ہمہ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ والد