آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 301

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۰۱ آئینہ کمالات اسلام آپ کے مجدد صاحب نواب صدیق حسن خان مرحوم حجج الکرامہ میں تسلیم کر چکے (۳۰۱ ہیں کہ وہ آخری زمانہ یہی زمانہ ہے۔ سوایسے مولویوں کا زہد و تقویٰ بغیر ثبوت قبول کرنے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کی تکذیب لازم آتی ہے۔ سو آپ نظیر پیش کریں اور اگر پیش نہ کر سکیں تو ثابت ہوگا کہ آپ کے پاس صرف راست گوئی کا دعوی ہے مگر کوئی دعوی بے امتحان قبول کے لائق نہیں ۔ اندرونی حال آپ کا خدا تعالی کو معلوم ہوگا کہ آپ کبھی کذب اور افترا کی نجاست سے ملوث ہوئے یا نہیں ۔ یا ان کو معلوم ہو گا جو آپ کے حالات سے واقف ہوں گے۔ جو شخص ابتلا کے وقت صادق نکلتا ہے اور سچ کو نہیں چھوڑتا۔ اس کے صدق پر مہر لگ جاتی ہے۔ اگر یہ مہر آپ کے پاس ہے تو پیش کریں ورنہ خدا تعالیٰ سے ڈریں ایسا نہ ہو کہ وہ آپ کی پردہ دری کرے۔ آپ کی ان بے ہودہ اور حاسدانہ باتوں سے مجھ کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے کہ آپ لکھتے ہیں کہ تم مختاری اور مقدمہ بازی کا کام کرتے رہے ہو ۔ آپ ان افتراؤں سے باز آجائیں آپ خوب جانتے ہیں کہ یہ عاجز ان پیشوں میں بھی نہیں پڑا کہ دوسروں کے مقدمات عدالتوں میں کرتا پھرے۔ ہاں والد صاحب کے زمانہ میں اکثر وکلاء کی معرفت اپنی زمینداری کے مقدمات ہوتے تھے اور کبھی ضرورتا مجھے آپ بھی جانا پڑتا تھا مگر آپ کا یہ خیال کہ وہ جھوٹے مقدمات ہوں گے ایک شیطنت کی بد بو سے بھرا ہوا ہے۔ کیا ہر یک نالش کرنے والا ضرور جھوٹا مقدمہ کرتا ہے یا ضرور جھوٹ ہی کہتا ہے۔ اسے بھی طبع شیخ خدا جانے تیری کس حالت میں موت ہوگی ۔ کیا جو شخص اپنے حقوق کی حفاظت کیلئے یا اپنے حقوق کے طلب کیلئے عدالت میں مقدمہ کرتا ہے اس کو ضرور جھوٹ بولنا پڑتا ہے ہرگز نہیں۔ بلکہ جس کو خدا تعالیٰ نے قوت صدق عطا کی ہو اور سیچ