آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 270
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۷۰ آئینہ کمالات اسلام (۲۷۰) انگریز کہاں ہوں گے اور روس کہاں اور جرمن اور فرانس وغیرہ یورپ کی بادشاہتیں کہاں جائیں گی حالانکہ مسیح موعود کا عیسائی سلطنتوں کے وقت میں ظاہر ہونا ضروری ہے اور جب مسیح موعود کیلئے یہی ضروری ہے کہ دنیا میں عیسائی طاقتوں کو ہی دنیا پر غالب پاوے اور تمام مفاسد کی کنجیاں انہیں کے ہاتھ میں دیکھے انہیں کی صلیبیوں کو توڑے اور انہیں کے خنزیروں کو قتل کرے اور انہیں کو اسلام میں داخل کر کے جزیہ کا قصہ تمام کرے تو پھر سوچو کہ فرضی دجال کی سلطنت باوجود عیسائی سلطنت کے کیونکر ممکن ہے مگر یہ غلط ہے کہ مسیح موعود ظاہری تلوار کے ساتھ آئے گا تعجب کہ یہ علماء يضع الحرب کے کلمہ کو کیوں نہیں سوچتے اور حديث الائمة من قریش کو کیوں نہیں پڑھتے پس جب کہ ظاہری سلطنت اور خلافت اور امامت بجز قریش کے کسی کیلئے روا ہی نہیں تو پھر مسیح موعود جو قریش میں سے نہیں ہے۔ آپ کو اس ذات کی قسم کہ جس کے قبضہ میں ہر یک جان ہے کہ آپ میرے اس نیاز نامہ کو لا پرواہی سے ٹال نہ دیں اور سوچ سمجھ کر جواب شائع کریں ۔ اس حاشیہ کے خاتمہ پر میں محض اللہ ان تمام صاحبوں کو جو سید صاحب کی تالیفات پر فریفتہ ہو رہے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ آیا ایمان سے نجات ملتی ہے یا فلسفہ سے ۔ میں بار بار کہتا ہوں اور زور سے کہتا ہوں کہ اگر عقا ئد دینیہ فلسفہ کے رنگ پر اور ہندسہ اور حساب کی طرح عام طور پر بد سہی الثبوت ہوتے تو وہ ہرگز نجات کا ذریعہ نہ ٹھہر سکتے ۔ بھائیو یقینا سمجھو کہ نجات ایمان سے وابستہ ہے اور ایمان امور مخفیہ سے وابستہ ہے۔ اگر حقائق اشیاء مستور نہ ہوتے تو ایمان نہ ہوتا اور اگر ایمان نہ ہوتا تو نجات کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا ۔ ایمان ہی ہے جو رضاء الہی کا وسیلہ اور مراتب قرب کا زینہ اور گناہوں کا زنگ دھونے کیلئے ایک چشمہ ہے اور ہمیں جو خدا تعالیٰ کی طرف حاجت ہے اس کا ثبوت ایمان ہی کے ذریعہ سے ملتا ہے کیونکہ ہم اپنی نجات کے