آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 265

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۶۵ آئینہ کمالات اسلام فنجعل لعنة الله على الكاذبين یعنی خدا تعالیٰ نے ایک معطر نظر سے تجھ کو دیکھا اور بعض لوگوں نے اپنے دلوں میں کہا کہ اے خدا کیا تو زمین پر ایک ایسے شخص کو قائم کر دے گا کہ جو دنیا میں فساد پھیلا دے تو خدا تعالیٰ نے ان کو جواب دیا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے اور ان لوگوں نے کہا کہ اس شخص کی کتاب ایک ایسی کتاب ہے جو کذب اور کفر سے بھری ہوئی ہے سو ان کو کہہ دے کہ آؤ ہم اور تم معہ اپنی عورتوں اور بیٹوں اور عزیزوں کے مباہلہ کریں پھر ان پر لعنت کریں جو کا ذب ہیں۔ اشارہ کر کے فرماتا ہے کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ عن ہم نے ہی اس کلام کو اتارا اور ہم ہی اس کی عزت اور اس کی عظمت اور اس کی تعلیم کو دشمنوں کے حملوں سے بچائیں گے پہلے وہ زمانے تھے کہ اسلام کی ظاہری تلوار نے بہت سی فضول بحثوں سے فراغت کر رکھی تھی اور ظالم اور شریر طبع لوگوں کے لئے ان کے مناسب حال تدارک موجود تھا اور عہد نبوت بھی قریب تھا اور مسلمانوں میں تقویٰ اور طہارت اور سچی ہمدردی اسلام کی موجود تھی اب یہ سب کچھ ندارد اور اب اسلام جیسا روئے زمین میں کوئی غریب اور یتیم اور مسکین نہیں اکثر اہل مقدرت اپنی عیاشیوں میں مصروف اور ان کو اپنی دنیا کی عمارتوں کے بنانے اور اپنی لذات کے سامان طیار کرنے یا کسی قدر ننگ و ناموس کے لئے مال خرچ کرنے سے فراغت نہیں اور مولوی لوگ اپنے نفسانی جھگڑوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور دعوت اسلام کی نہ لیاقت رکھتے ہیں نہ اس کا کچھ جوش نہ اس کی کچھ پر وا اگر ان سے کچھ ہو سکتا ہے تو صرف اس قدر کہ اپنی ہی قوم اور اپنے ہی بھائیوں اور اپنے جیسے مسلمانوں اور اپنے جیسے ا الحجر:١٠ ۲۶۵