آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 250
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۵۰ آئینہ کمالات اسلام (۲۵۰) اس کو ستاتے اور اس کی ذلت ثابت کرنا چاہتے ہیں لیکن چونکہ وہ برہان حق اپنے ساتھ رکھتا ہے اس لئے آخران سب پر غالب آتا ہے اور اس کی سچائی کی کرنیں بڑے زور سے دنیا میں پھیلتی ہیں اور جب خدائے تعالیٰ دیکھتا ہے کہ زمین اس کی صداقت پر گواہی نہیں دیتی تب آسمان والوں کو حکم کرتا ہے کہ وہ گواہی دیں سو اس کے لئے ایک روشن گواہی خوارق کے رنگ میں دعاؤں کے قبول ہونے کے رنگ میں اور حقائق و معارف کے رنگ میں آسمان سے اترتی ہے اور وہ گواہی بہروں اور گونگوں اور اندھوں تک پہنچتی ہے اور بہتیرے ہیں جو اس وقت حق اور سچائی کی طرف کھینچے جاتے ہیں مگر مبارک وہ جو پہلے سے قبول کر لیتے ہیں کیونکہ ان کو بوجہ نیک ظن اور قوت ایمان کے صدیقوں کی شان کا ایک عقل مندوں کا یہ حال ہوا اور بسم اللہ ہی غلط ہوئی تو پھر دوسرے امور غیبیہ کا عقل انسانی کو کچھ پتہ لگ جانا کیا امید رکھیں سو اس سوال کا جواب کہ یہ ایمانی امور کیوں مخفی رکھے گئے وہی ہے جو ابھی ہم لکھ چکے ہیں یعنی خدا تعالیٰ کی رحمت اور بخشش اور فضل نے ان امور مخفیہ کو انسان کی نجات کے لئے ایک راہ نکالی کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنی ہستی کو جو علت العلل ہے اور اپنے ملائک کو جو باذنہ تعالیٰ مدتمرات امور ہیں اور روز قیامت کو جو بجلی گا و قدرت نامہ ہے اور بہشت اور دوزخ اور حقیقت نبوت اور رسالت اور وحی کو عقلمندوں کی نظر سے پوشیدہ کیا اور اپنے امی بندوں کو ان امور کی معرفت بخش کر اور تاج نبوت اور خلعت رسالت عطا فرما کر دعوت ایمان کے لئے دنیا میں بھیجا پھر جس نے ان کو مخبر صادق سمجھا اور جو ان کی باتوں پر ایمان لایا وہ مومن کہلایا اور نجات پا گیا اور جس نے دنیا کی عقل اور منطق کو اپنا قبلہ بنا کر چون و چرا کیا وہ مردود اور کافر اور خسر الدنیا والآخرة قرار پایا اور جہنم اس کا ٹھکانا ہوا لیکن اس جگہ کوئی یہ دھوکا نہ کھا وے کہ اس دعوت ایمان میں محض