آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 249
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۴۹ آئینہ کمالات اسلام ا دنیا کے لوگ منکر تھے اور ان پر بنتے تھے اور ان کو خلاف فلسفہ اور نیچر سمجھتے تھے یا اگر (۳۹) بہت نرمی کرتے تھے تو بطور ایک قصہ اور کہانی کے ان کو مانتے تھے اب اس کے آنے سے اور اس کے عجائبات ظاہر ہونے سے نہ صرف قبول ہی کرتے ہیں بلکہ اپنی پہلی حالت پر روتے اور تاسف کرتے ہیں کہ وہ کیسی نادانی تھی جس کو ہم عقلمندی سمجھتے تھے اور وہ کیسی بے وقوفی تھی جس کو ہم علم اور حکمت اور قانون قدرت خیال کرتے تھے غرض وہ خلق اللہ پر ایک شعلہ کی طرح گرتا ہے اور سب کو کم و بیش حسب استعدادات مختلفہ اپنے رنگ میں لے آتا ہے اگر چہ وہ اوائل میں آزمایا جاتا اور تکالیف میں ڈالا جاتا ہے اور لوگ طرح طرح کے دکھ اس کو دیتے اور طرح طرح کی باتیں اس کے حق میں کہتے ہیں اور انواع اقسام کے طریقوں سے کا عقل لگا سکتی ہے اور کیونکر ایسا شخص جو انکشاف حقیقت کا بھوکا پیاسا اور زندہ خدا کی معرفت چاہتا ہے عقل کے یک طرفہ اور نا کافی استدلالات پر مطمئن ہو سکتا ہے عقل انسانی ہزار سوچے اور گو لاکھ دفعہ زمین اور اجرام آسمانی کی پر حکمت بناوٹ پر نظر غور کرے لیکن وہ یہ دعوی نہیں کر سکتی کہ اس عالم کا کوئی صانع ہے کیونکہ ایسا دعویٰ تو تب کرے کہ اس کو دیکھا بھی ہو اس کا کوئی پتہ بھی لگا ہو ہاں اگر عقل دھوکا نہ کھا دے اور دوسری طرف رخ نہ کرے تو یہ کہہ سکتی ہے کہ اس ترتیب محکم اور ترکیب ابلغ اور اس کا روبار پر حکمت کا کوئی صانع ہونا چاہیے مگر ہے اور ہونا چاہیے میں جس قد ر فرق ہے وہ ظاہر ہے اور یہ بات بھی بطور تنزل ہم نے بیان کی ہے ورنہ جنہوں نے خدا تعالیٰ کے وجود کا پتہ لگانے میں صرف اپنی عقل ہی کو امام بنایا اور فقط اسی کی رہبری سے کسی منزل تک پہنچنا چاہا تھا ان کو عقل نے جس جگہ پہنچایا ہے وہ یہی ہے کہ یا تو وہ لوگ آخر کا رد ہر یہ ہو گئے اور یا خدا تعالیٰ کو ایسے ضعیف طور پر مانا جو نہ ماننے کے برابر تھا اب جب کہ خدا دانی کے مرتبہ پر ہی