آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 241
روحانی خزائن جلده ۲۴۱ آئینہ کمالات اسلام کی صحبت سے واپس آتے وقت ایک چمکتا ہوا شعلہ اپنے ساتھ لاتا ہے پس ایک (۲۴) عارف اور کامل انسان اس وقت مکالمہ الہیہ کے لئے نہایت ہی استعداد قریبہ رکھتا ہے جب وہ دردمند ہو کر آستانہ الہی پر گرتا ہے اور ہر یک طرف سے منقطع ہو کر اس موافقت اور مصادقت کو جو اس کے رگ وریشہ میں رچی ہوئی ہے ایک تازہ اور نیا جوش دیتا ہے اور دردناک روح کے ساتھ خدا تعالیٰ کی مدد کے لئے التجا کرتا ہے ۔ تب خدا تعالیٰ اس کی سنتا ہے اور اسے تو دد اور محبت کے ساتھ جواب دیتا ہے اور اس پر رحم کرتا ہے اور اس کی دعاؤں کو اکثر قبول فرما لیتا ہے ۔ آج کل کے بعض ملحدانہ خیال والے جو یورپ کے فلسفہ اور نیچر کے تابع ہو گئے ہیں اور اجابت اور قبولیت دعا سے منکر ہیں ان کے یہ خیالات سراسر گو وہ کیسی ہی غریب اور نادر ہوں مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدائی کاموں کے ہم پلہ ہیں لیکن وہ وحی جس کا ہم نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے جس کی بابرکت آوازیں ہم نے اپنے کانوں سے سنی ہیں وہ بلا شبہ انسان کی فطرت سے مافوق اور الوہیت کی زبر دست طاقتیں اپنے اندر رکھتی ہے جس کے دیکھنے سے گویا ہم خدا تعالیٰ کا چہرو دیکھتے ہیں اور وہ خدائے تعالیٰ کا ویسا ہی قول خالص ہے جیسا کہ زمین اور آفتاب اور ماہتاب خدا تعالی کا فعل خالص ۔ اور بلاشبہ وہ انسانی فطرت کی حدود سے ایسا ہی بلند تر ہے جیسا کہ خدا انسان سے اگر آپ تھوڑی سی زحمت اٹھا کر اور بزرگواری کے حجابوں سے الگ ہو کر چند ہفتہ اس عاجز کی صحبت میں رہیں تو میں امید رکھتا ہوں کہ آپ کے بہت سے امور ما فوق العقل بڑی آسانی سے آپ کو معقول اور ممکن دکھائی دیں ۔ گو آپ اپنے خیال میں فلسفہ اور سائنس کا نچوڑ اپنے دماغ میں جمع رکھتے ہیں اور نیچر کے تمام درجے طے کر کے نئی روشنی سے منور ہو چکے ہیں لیکن عزیز من ( ناراض نہ ہوں )