آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 242
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۴۲ آئینہ کمالات اسلام ۲۳۲ باطل ہیں کہ قبولیت دعا کچھ چیز نہیں اور تحصیل مرادات کے لئے دعا کرنا نہ کرنا برابر ہے یا درکھنا چاہیئے کہ مومن پر خدا تعالیٰ کے فضلوں میں سے یہ ایک بڑا بھاری فضل ہوتا ہے جو اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس کی درخواستیں گو کیسے ہی مشکل کاموں کے متعلق ہوں اکثر بہ پایۂ اجابت پہنچتی ہیں اور دراصل ولایت کی حقیقت یہی ہے جو ایسا قرب اور وجاہت حاصل ہو جائے جو بہ نسبت اور وں کے بہت دعائیں قبول ہوں کیونکہ ولی خدا تعالیٰ کا دوست ہوتا ہے اور خالص دوستی کی یہی نشانی ہے کہ اکثر درخواستیں اس کی قبول کی جائیں ۔ پس جو شخص کہتا ہے کہ دعا قبول ہونے کے اس سے زیادہ اور کچھ معنی نہیں کہ خدا تعالیٰ تک اس کی آواز پہنچ جاتی ہے اور خدائے تعالیٰ جان لیتا ہے کہ اس نے دعا کی ہے۔ ایسا شخص مسخرہ ہے اور خدا تعالی کی کتاب آسمانی روشنی شے دیگر ہے اور مغربی علوم کی روشنی دیگر ۔ اگر آپ کو اس روشنی کی تاریکیوں اور مضرتوں کی کچھ خبر ہوتی تو آپ اسلام کی امیت کو اس نابکار روشنی پر یہ ہزار مرتبہ ترجیح دیتے اور دین العجائز اختیار کر کے اور اس زمانہ کے دجالی فتنوں سے ڈر کر اور ایمانی امور پر صبر کی خواہش کر کے ہمیشہ تضرع سے یہ دعا کیا کرتے کہ ربنا أفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ آپ کو معلوم رہے کہ فلسفہ موجودہ ثابت شدہ صداقتوں کے مقابل پر بالکل مردہ اور بے طاقت ہے کوئی علم نیا ہو یا پرانا واقعات صحیحہ پر غالب نہیں آسکتا اگر میں دو اور دو کو چار کہوں تو مجھے اس سے کیا اندیشہ ہے کہ کوئی بڑا فلا سفر میری مخالفت پر کھڑا ہے یا اگر میں دن کو دن ہی سمجھوں تو مجھے کیوں اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ ایک گروہ فلاسفروں کا میرے سامنے اس وقت دن کو رات کہہ رہا ہے کوئی غذا بدن کو ایسی قوت نہیں پہنچا سکتی کہ جیسے برہان یقینی اور انکشاف نام دل کو اور یہ انکشاف اور یہ برہان جو معرفت الہی اور معاد میں مطلوب الاعراف : ۱۲۷