آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 233

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۳۳ آئینہ کمالات اسلام الفاظ میں محسوس ہوتی ہے اور اپنے اندر ایک ربانی تجلی اور الہی صولت رکھتی ہے ۔ ۲۳۳ اس جگہ ہر یک سچے طالب کے دل میں بالطبع یہ سوال پیدا ہو گا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے کہ تا یہ مرتبہ عالیہ مکالمہ الہیہ حاصل کر سکوں پس اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک نئی ہستی ہے جس میں نئی قوتیں نئی طاقتیں نئی زندگی عطا کی جاتی ہے اور نئی ہستی پہلی ہستی کی فنا کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی ۔ اور جب پہلی ہستی ایک سچی اور حقیقی و قربانی کے ذرب ذریعہ سے جو رائے نفس اور فدائے عزت و مال و دیگر لوازم نفسانیہ سے مراد ہے بکلی جاتی رہے تو یہ دوسری ہستی فی الفور اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ پہلی ہستی کے دور ہونے کے نشان کیا ہیں تو بقي کی آواز کو جو سچائی کی طرف بلا رہا ہے نہ سننا اور تحقیر کی نظر سے اس کو دیکھنا اور بے تحقیق اس کی نسبت مخالفانہ بولنا اور ثابت شدہ صداقت کے برخلاف جمے رہنا ہلاک ہونے کی راہ ہے مجھے آپ کے کلمات سے بو آتی ہے کہ صرف اتنا ہی نہیں کہ آپ اس امت کو مرتبہ مکالمات الہیہ سے تہی دست خیال کرتے ہیں بلکہ آپ کسی نبی کے لئے بھی یہ مرتبہ تجویز نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ کا زندہ اور خدا کی قدرتوں سے بھرا ہوا کلام اس پر کبھی نازل ہوا ہو پس اگر آپ کا عقیدہ یہی ہے جو میں نے سمجھا اور میرے خیال میں گذرا ہے تو نعوذ باللہ آپ کا ایمان نہایت خطرناک ورطہ میں پڑا ہوا ہے اور میں بہت خوش ہوں گا اگر آپ کسی اخبار کے ذریعہ سے مجھ کو اطلاع دے دیں کہ ہمارا انبیاء کی نسبت یہ عقیدہ نہیں ہے کہ ان پر خدائے تعالیٰ کا زندہ کلام نازل نہیں ہوتا اور وہ کلام اخبار غیبیہ پر مشتمل نہیں ہوتا اور اگر خدا نخواستہ آپ کا الہی کتابوں کی نسبت جیسا کہ اب تک میں نے سمجھا ہے ۔ یہی خیال ہے کہ وہ واقعی اور حقیقی طور پر خدائے تعالیٰ