آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 234
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۳۴ آئینہ کمالات اسلام (۲۳۴) اس کا جواب یہ ہے کہ جب پہلے خواص اور جذبات دور ہو کر نئے خواص اور نئے جذبات پیدا ہوں اور اپنی فطرت میں ایک انقلاب عظیم نظر آوے اور تمام حالتیں کیا اخلاقی اور کیا ایمانی اور کیا تعبدی ایسی ہی بدلی ہوئی نظر آئیں کہ گویا اُن پر اب رنگ ہی اور ہے غرض جب اپنے نفس پر نظر ڈالے تو اپنے تئیں ایک نیا آدمی پاوے اور ایسا ہی خدا تعالیٰ بھی نیا ہی دکھائی دے اور شکر اور صبر اور یا دالہی میں نئی لذتیں پیدا ہو جا ئیں جن کی پہلے کچھ بھی خبر نہیں تھی اور بدیہی طور پر محسوس ہو کہ اب اپنا نفس اپنے رب پر بکلی متوکل اور غیر سے بکتی لا پروا ہے اور تصور وجود حضرت باری اس قدر اس کے دل پر استیلا پکڑ گیا ہے کہ اب اس کی نظر شہود میں وجود غیر بکلی معدوم ہے اور تمام اسباب بیچ اور ذلیل اور بے قدر نظر آتے ہیں اور صدق اور کا کلام نہیں اور وحی سے مراد صرف ایک ملکہ ہے جو انبیا ء کی فطرت کو حاصل ہوتا ہے یعنی ان کی فطرت کچھ ایسی ہی واقعہ ہوتی ہے کہ صداقت اور حکمت کی باتیں ان کے منہ سے نکلتی ہیں تو پھر میں آپ پر کھلے کھلے معارضہ کے ساتھ اتمام حجت کرنا چاہتا ہوں تا لوگ آپ کی پیروی سے ہلاک نہ ہوں اگر آپ اپنے قول سے رجوع کا اقرار کر کے مجھ سے اس بات کا ثبوت چاہیں کہ کیونکر وحی فی الواقعہ خدائے تعالیٰ کا کلام ہوتا ہے اور اخبار غیبیہ اور آئندہ اور گذشتہ کی خبروں پر مشتمل ہوتا ہے تو میں بڑی خوشی سے الہامی پیشگوئیوں کے نمونہ سے ثبوت دینے کو طیار ہوں اور اس بات کے سننے سے کہ آپ نیک نیتی سے اس امتحان کے لئے مستعد ہو گئے ہیں مجھے اس قدر خوشی ہوگی کہ شاید ایسی خوشی کسی اور چیز سے نہ ہو سکے اس لئے کہ آپ کا اپنی مہلک غلطیوں سے باز آ جانا میرے نزدیک ایک قوم کی اصلاح سے کم نہیں جب میں دیکھتا ہوں کہ قرآن کریم تو آئندہ اور گزشتہ پیشگوئیوں سے بھرا ہوا ہے مثلاً اس کا ہر ایک قصہ ہی اخبار غیب ہے یہ نہیں