آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 229
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۲۹ آئینہ کمالات اسلام سماع کے طور پر قبول کئے گئے تھے اب بذریعہ مکاشفات صحیحہ اور الہامات یقینیہ (۱۳۹۶) قطعیہ مشہود اور محسوس طور پر کھولے جاتے ہیں اور مغلقات شرع اور دین کے اور اسرار سر بستہ ملت حنیفیہ کے اس پر منکشف ہو جاتے ہیں اور ملکوت الہی کا اس کو سیر کرایا جاتا ہے تا وہ یقین اور معرفت میں مرتبہ کامل حاصل کرے اور اس کی زبان اور اس کے بیان اور تمام افعال اور اقوال اور حرکات سکنات میں ایک برکت رکھی جاتی ہے اور ایک فوق العادت شجاعت اور استقامت اور ہمت اس کو عطا کی جاتی ہے اور شرح صدر کا ایک اعلیٰ مقام اس کو عنایت کیا جاتا ہے اور بشریت کے حجابوں کی تنگدلی اور خست اور بخل اور بار بار کی لغزش اور تنگ چشمی اور غلامی شہوات اور ردائت اخلاق اور ہر ایک قسم کی نفسانی تاریکی بگی اس سے دور کر کے اس کی کرتے ہیں ۔ یہودیوں کی کارستانیوں کا نمونہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے کہ انہوں نے کلام الہی میں تحریف اور الحاد اختیار کر کے کیا نام رکھا یا قرآن کریم کی کسی آیت کے ایسے معنے کرنے چاہئے کہ جو صد ہا دوسری آیات سے جو اس کی تصدیق کے لئے کھڑی ہوں مطابق ہوں اور دل مطمئن ہو جائے اور بول اٹھے کہ ہاں یہی منشاء اللہ جل شانہ کا اس کے پاک کلام میں سے یقینی طور سے ظاہر ہوتا ہے یہ سخت گناہ اور معصیت کا کام ہے کہ ہم قرآن کریم کی ایسی دور از حقیقت تا ویلیس کریں کہ گویا ہم اس کے عیب کی پردہ پوشی کر رہے ہیں یا اس کو وہ باتیں جتلا رہے ہیں جو اس کو معلوم نہیں تھیں سید صاحب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ حال کی تحقیقاتوں کو ایسا مسلم الثبوت اور یقینی مان لیا کہ گویا ان میں غلطی ہو نا ممکن ہی نہیں حالانکہ اس نئے فلسفہ اور سائنس میں ایسی ہی غلطیاں نکالنا ممکن ہے کہ جیسے پہلے فلسفہ اور طبعی کی اب غلطیاں نکل رہی ہیں سید صاحب اس مثل مشہور کو بھول گئے کہ ۔ پائے استدلالیاں چوبین بود