آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 225

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۲۵ آئینہ کمالات اسلام لو آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے تو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے (۲۲۵) آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے جب سے یہ نور ملانور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کے وجود اپنا ملایا ہم نے مصطفیٰ پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت اس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے اُس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں لا جرم غیروں سے دل اپنا چھٹڑایا ہم نے مورد قہر ہوئے آنکھ میں اغیار کے ہم جب سے عشق اس کا تہ دل میں بٹھایا ہم نے زعم میں ان کے مسیحائی کا دعوی میرا افترا ہے جسے از خود ہی بنایا ہم نے کافر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے تیری الفت سے ہے معمور مرا ہر ذرہ اپنے سینہ میں یہ اک شہر بسایا ہم نے صف دشمن کو کیا ہم نے یہ حجت پامال سیف کا کام قلم سے ہی دکھایا ہم نے نور دکھلا کے تیرا سب کو کیا ملزم و خوار سب کا دل آتش سوزاں میں جلایا ہم نے نقش ہستی تری الفت سے مٹایا ہم نے اپنا ہر ذرہ تری راہ میں اڑایا ہم نے تیرا میخانہ جو اک مرجع عالم دیکھا غم کا خم منہ سے بصد حرص لگایا ہم نے شان حق تیرے شمائل میں نظر آتی ہے تیرے پانے سے ہی اُس ذات کو پایا ہم نے چھو کے دامن تر اہر دام سے ملتی ہے نجات لاجرم در پہ ترے سر کو جھکایا ہم نے دلبرا مجھ کو قسم ہے تری یکتائی کی آپ کو تیری محبت میں بھلایا ہم نے