آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 224

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۲۴ آئینہ کمالات اسلام ۲۴ کارخانہ میں مستقل دخیل قرار دیں بلکہ ہمیشہ مسبب پر نظر رہے نہ اسباب پر ۔ تیسرا درجہ توحید کا یہ ہے کہ تجلیات الہیہ کا کامل مشاہدہ کر کے ہر یک غیر کے وجود کو کالعدم قرار دیں اور ایسا ہی اپنے وجود کو بھی غرض ہر یک چیز نظر میں فانی دکھائی دے بجز اللہ تعالی کی ذات کامل الصفات کے ۔ یہی روحانی زندگی ہے کہ یہ مراتب ثلاثہ توحید کے حاصل ہو جائیں ۔ اب غور کر کے دیکھ لو کہ روحانی زندگی کے تمام جاودانی چشمے محض حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی طفیل دنیا میں آئے ہیں یہی اُمت ہے کہ اگر چہ نبی تو نہیں مگر نبیوں کی مانند خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو جاتی ہے اور اگر چہ رسول نہیں مگر رسولوں کی مانند خدا تعالیٰ کے روشن نشان اس کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں اور روحانی زندگی کے دریا اس میں بہتے ہیں اور کوئی نہیں کہ اس کا مقابلہ کر سکے ۔ کوئی ہے کہ جو برکات اور نشانوں کے دکھلانے کے لئے مقابل میں کھڑا ہو کر ہمارے اس دعوی کا جواب دے !!! ۔ ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں۔ دین محمد سا نہ پایا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلاوے یہ شمر باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا نور ہے نور اٹھو دیکھو سنایا ہم نے اور دینوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے تھک گئے ہم تو انہیں باتوں کو کہتے کہتے ہر طرف دعوتوں کا تیر چلایا ہم نے آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل پہ بُلایا ہم نے یونہی غفلت کے لحافوں میں پڑے سوتے ہیں وہ نہیں جاگتے سو بار جگایا ہم نے جل رہے ہیں یہ بھی بغضوں میں اور کینوں میں باز آتے نہیں ہر چند ہٹایا ہم نے