آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 216

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۱۶ آئینہ کمالات اسلام (۲۱۲) فاسد زمانہ ہے چنانچہ اس زمانہ کے لوگوں کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں خير هذه الامة اوّلها و أخرها۔ اوّلها فيهم رسول الله صلى الله عليه وسلم و أخرها فيهم عيسى بن مريم و بين ذ ذالک فیج اعوج ليسوا منی و لست منهم یعنی امتیں دو ہی بہتر ہیں ایک اول اور ایک آخر اور درمیانی گر وہ ایک لشکر کج ہے جو دیکھنے میں ایک فوج اور روحانیت کے رو سے مردہ ہے نہ وہ مجھ سے اور نہ میں ان میں سے ہوں ۔ حدیث صحیح میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی که اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا لوکــان الايمــان عـنـد الثريا اس نے میرے اس بیان میں دخل بے جا دے کر کہا کہ یہ باتیں گنہ باری میں دخل ہے اور گنہ باری میں گفتگو کرنے کی ممانعت ہے تو میں نے کہا کہ اے نادان ان بیانوں کو کنہ باری سے کچھ تعلق نہیں یہ معارف ہیں اور میں نے اس کے بے جا دخل سے دل میں بہت رنج کیا اور کوشش کی کہ وہ چپ رہے مگر وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آیا تب میرا غصہ بھڑ کا اور میں نے کہا کہ اس زمانہ کے بدذات مولوی شرارتوں سے باز نہیں آتے خدا ان کی پردہ دری کرے گا اور ایسے ہی چند الفاظ اور بھی کہے جو اب مجھے یاد نہیں رہے۔ تب میں نے اس کے بعد کہا کہ کوئی ہے کہ اس مولوی کو اس مجلس سے باہر نکالے تو میرے ملا زم حامد علی نام کی صورت پر ایک شخص نظر آیا اس نے اٹھتے ہی اس مولوی کو پکڑ لیا اور دھکے دے کر اس کو اس مجلس سے باہر نکالا اور زینہ کے نیچے اتار دیا تب میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری جماعت کے قریب ایک وسیع چبوترہ پر کھڑے ہیں اور یہ بھی گمان گذرتا ہے کہ چہل قدمی کر رہے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ جب مولوی کو نکالا گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ کے ہو ماکے کے بعد کا تب سے یہاں لفظ ” قریب چھوٹ گیا ہے۔ (شمس)