آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 206

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۰۶ آئینہ کمالات اسلام (۲۰۶) لگانے سے ثابت کر دکھلایا تو بلاشبہ ان کی ثابت قدمی اور ان کا صدق اپنے پیارے رسول کی راہ میں ان کی جانفشانی ایک اعلیٰ درجہ کی کرامت کے رنگ میں اس کو نظر آئے گی وہ پاک نظر ان کے وجودوں پر کچھ ایسا کام کر گئی کہ وہ اپنے آپ سے کھوئے گئے اور انہوں نے فنافی اللہ ہوکر صدق اور راست بازی کے وہ کام دکھلائے جس کی نظیر کسی قوم میں ملنا مشکل ہے اور جو کچھ انہوں نے عقائد کے طور پر حاصل کیا تھا وہ یہ تعلیم نہ تھی کہ کسی عاجز انسان کو خدا مانا جائے یا خدا تعالیٰ کو بچوں کا محتاج ٹھہرایا جائے بلکہ انہوں نے حقیقی خدائے ذوالجلال جو ہمیشہ سے غیر متبدل اور حتی قیوم اور ابن اور اب ہونے کی حاجات سے منزہ اور موت اور پیدائش سے پاک ہے بذریعہ اپنے رسول کریم کے شناخت کر لیا تھا اور وہ لوگ سچ سچ موت کے گڑھے سے نکل کر پاک حیات کے بلند مینار پر کھڑے ہو گئے تھے اور ہر یک بقیه حاشیه بقیه حاشیه در حاشیه لطیفہ دیئے ہیں جن پر ایک سلیم العقل نظر غور ڈال کر ایک حصہ و افریقین کا حاصل کر سکتا ہے مثلا گو ایمانی مرتبہ میں خدا تعالی پر ایمان لانا ایک ایمان سے اپنے اپنے محل پر کام لیتا ہے یہ درجہ جنین کے اس درجہ سے مشابہت رکھتا ہے کہ جب وہ مضغہ کی حالت سے ترقی کر کے انسان کی صورت کا ایک پورا خا کہ حاصل کر لیتا ہے اور ہڈی کی جگہ پر ہڈی نمودار ہو جاتی ہے اور گوشت کی جگہ پر گوشت باقی رہتا ہے بڑی نہیں بنتی اور تمام اعضا میں با ہم تمیز کلی پیدا ہو جاتی ہے لیکن ابھی خوبصورتی اور تازگی اور تناسب اعضا نہیں ہوتا صرف خاکہ ہوتا ہے جو نظر دقیق سے دکھائی دیتا ہے پھر بعد اس کے عنایت الہی توفیقات متواترہ سے موفق کر کے اور تزکیہ نفس کے کمال تک پہنچا کر اور فنا فی اللہ کے انتہائی نقطہ تک کھینچ کر اس کے خاکہ کے بدن پر انواع اقسام کی برکات کا گوشت بھر دیتی ہے اور اس گوشت سے