آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 205

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۰۵ آئینہ کمالات اسلام روحانی حیات کے بخشنے میں اس ذات کامل الصفات نے دکھلایا جس کا نام نامی محمد (۲۰۵) ہے صلی اللہ علیہ وسلم سارا قرآن اول سے آخر تک یہ شہادت دے رہا ہے کہ یہ رسول اس وقت بھیجا گیا تھا کہ جب تمام قو میں دنیا کی روح میں مر چکی تھیں اور فساد روحانی نے بر و بحر کو ہلاک کر دیا تھا تب اس رسول نے آ کر نئے سرے سے دنیا کو زندہ کیا اور زمین پر توحید کا دریا جاری کر دیا اگر کوئی منصف فکر کرے کہ جزیرہ عرب کے لوگ اول کیا تھے اور پھر اس رسول کی پیروی کے بعد کیا ہو گئے اور کیسی ان کی وحشیانہ حالت اعلیٰ درجہ کی انسانیت تک پہنچ گئی اور کس صدق وصفا سے انہوں نے اپنے ایمان کو اپنے خونوں کے بہانے سے اور اپنی جانوں کے فدا کرنے اور اپنے عزیزوں کو چھوڑنے اور اپنے مالوں اور عزتوں اور آراموں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں کہ یہ بات بھی نہیں کہ ایمانی مرتبہ میں خدا تعالیٰ نے ان تمام امور کے تسلیم کرانے میں اپنے بندوں کو صرف تکلیف مالا يطاق دینا چاہا ہے بلکہ ان کی تسلیم کے لئے براہین وہ ہے کہ جب انسان استقامت اور بلاؤں کی برداشت کی برکت سے آزمائے جانے کے بعد نقوش انسانی کا پورے طور پر انعام پاتا ہے یعنی روحانی طور پر اس کے لئے ایک صورت انسانی عطا ہوتی ہے اور انسان کی طرح اس کو دو آنکھیں دوکان اور دل اور دماغ اور تمام ضروری قومی اور اعضا عطا کئے جاتے ہیں اور بمقتضائے آیت أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُم سختی اور نرمی مواضع مناسبہ میں ظاہر ہو جاتی ہے یعنی ہر ایک خلق اس کا اپنے اپنے محل پر صادر ہوتا ہے اور آداب طریقت تمام محفوظ ہوتے ہیں اور ہر ایک کام اور کلام حفظ حدود کے لحاظ سے بجا لاتا ہے یعنی نرمی کی جگہ پر نرمی اور سختی کی جگہ پر سختی اور تواضع کی جگہ پر تواضع اور ترفع کی جگہ پر ترفع ایسا ہی تمام قولی الفتح : ٣٠