آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 202
روحانی خزائن جلد ۵ آئینہ کمالات اسلام ۲۰۲ آتے گئے اس کا بداثر پڑا ہوگا کیونکہ ہر یک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر حضرت مسیح سے در حقیقت معجزات ظہور میں آتے اور اعلیٰ درجہ کے عجائب کام ان سے ظاہر ہوتے تو ان کے حواریوں کا جو ایمان لا چکے تھے ایسا بد انجام ہر گز نہ ہوتا کہ بعض چند درم رشوت لے کر ان کو گرفتار کراتے اور بعض ان کو گرفتار ہوتے دیکھ کر بھاگ جاتے اور بعض ان کے رو برو ان پر لعنت بھیجتے جن کے دلوں میں ایمان رچ جاتا ہے اور جن کو نئی زندگی حاصل ہوتی ہے کیا ان کے یہی آثار ہوا کرتے ہیں اور کیا وہ اپنے مخدوم اپنے آقا اپنے رہبر سے ایسی ہی وفاداریاں کیا کرتے ہیں اور حضرت مسیح کے الفاظ بھی جو انجیلوں میں درج ہیں دلالت کر رہے ہیں کہ آپ کے حواری اور آپ کے دن رات کے دوست اور رفیق اور ہم پیالہ اور ہم نوالہ بکھی روحانیت سے خالی تھے اسی وجہ سے حضرت مسیح علیہ السلام نے طور پر ثابت ہو سکتی ہے اسی طور پر ان تمام عقائد کا ثبوت مل جاتا ہے بلکہ ایسا اعلی ثبوت کہ کوئی نمونہ اس کا دنیا میں پایا نہیں جاتا مگر کمبخت انسان ان راہوں کی طرف بقیه حاشیه دیکھ لو یہی چھ مراتب اس میں متحقق ہوں گے یعنی بنظر تحقیق یہ ثابت ہوگا کہ ہر یک جسمانی مخلوق کے وجود کی تکمیل چھ مرتبوں کے طے کرنے کے بعد ہوتی ہے اور انسان پر کچھ موقوف نہیں زمین پر جو ہزار ہا حیوانات ہیں ان کے وجود کی تکمیل بھی انہیں مراتب ستہ پر موقوف پاؤ گے۔ پھر ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ مراتب سته تکوین کا صرف جسمانی مخلوق میں ہی محدود نہیں بلکہ روحانی امور میں بھی اس کا وجود پایا جاتا ہے مثلا تھوڑے سے غور سے معلوم ہوگا کہ انسان کی روحانی پیدائش کے مراتب بھی چھ ہی ہیں پہلے وہ نطفہ کی صورت پر صرف حق کے قبول کرنے کی ایک استعداد بعیدہ اپنے اندر رکھتا ہے اور پھر جب