آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 203
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۰۳ آئینہ کمالات اسلام بعض کو ان میں سے ست اعتقاد کے لفظ سے پکارا ہے اور بعض کو شیطان کے لفظ سے یاد (۲۰۳) کیا ہے اور اگر ہم حواریوں کو الگ رکھ کر ان عیسائیوں کے حالات پر نظر ڈالیں جو بعد ان کے وقتا فوقتا آج تک پیدا ہوتے رہے تو ہمیں ایک بھی ان میں سے نظر نہیں آتا جو دنیا اور نفس کی قبر سے نکل کرنئی زندگی کی قیامت میں برانگیختہ ہو گیا ہو بلکہ وہ تمام نفسانیت کی تنگ و تاریک قبروں میں مرے ہوئے اور سڑے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور روحانی حیات کی ہوا اُن کو چھو بھی نہیں گئی وہ جانتے بھی نہیں کہ خدا کون ہے اور اس کی عظمت اور قدرت کیا شے ہے اور کیونکر وہ پاک دلوں کو پاک زندگی بخشتا اور ان سے قریب ہو جاتا ہے وہ تو ایک عاجز انسان کو خدا قرار دے کر اور بے وجہ اس پر دوسروں کے گناہوں کا بوجھ لاد کر خوش ہورہے ہیں۔ جاننا چاہیے کہ موت چار قسم کی ہوتی حاشیه ذرہ رغبت نہیں کرتا اور ان راہوں سے حق الیقین تک پہنچنا چاہتا ہے جو خدا تعالیٰ کے قدیم قانون قدرت نے وہ راہیں ان امور کے دریافت کے لئے مقرر نہیں کیں اس کی اس استعداد کے ساتھ ایک قطرہ رحمت الہی مل جاتا ہے اسی طرز کے موافق کہ جب عورت کے نطفہ میں مرد کا نطفہ پڑتا ہے تو جب انسان کی باطنی حالت نطفہ کی صورت سے علاقہ کی صورت میں آجاتی ہے اور کچھ رشتہ باری تعالیٰ سے پیدا ہونے لگتا ہے جیسا کہ علقہ کے لفظ سے تعلق کا لفظ مفہوم ہوتا ہے اور پھر وہ علقہ اعمال صالحہ کے خون کی مدد سے مضغہ بنتا ہے اسی طرز سے کہ جیسے خون حیض کی مدد سے علقہ مضغہ بن جاتا ہے اور مضغہ کی طرح ابھی اس کے اعضا نا تمام ہوتے ہیں جیسا کہ مضغہ میں ہڈی والے عضو ا بھی نا پدید ہوتے ہیں ایسا ہی اس میں بھی شدت اللہ اور ثبات اللہ اور استقامت اللہ کے عضو ابھی کما حقہ پیدا نہیں ہوتے گو تواضع اور نرمی موجود ہو جاتی ہے۔ اور اگر چہ پوری شدت