آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 194
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۹۴ آئینہ کمالات اسلام ۱۹۴ کہ جو اُن کو غیر اللہ سے رہائی دے دے گا اور وہ گنا ہوں سے نجات پا جائیں گے اور اسی دنیا میں ایک پاک زندگی ان کو عطا کی جائے گی اور نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گے۔ اسی کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے۔انا الحاشر الذي يُحشر الناس علی قدمی یعنی میں وہ مُردوں کو اٹھانے والا ہوں جس کے قدموں پر لوگ اٹھائے جاتے ہیں۔ واضح ہو کہ قرآن کریم اس محاورہ سے بھرا پڑا ہے کہ دنیا مر چکی تھی اور خدا تعالیٰ نے اپنے اس نبی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر نئے سرے دنیا کو زندہ کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُخي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا لا یعنی اس بات کو سن رکھو کہ زمین کو اس کے مرنے کے بعد خدا تعالیٰ زندہ کرتا ہے پھر اسی کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے حق میں فرماتا ہے۔ بقيه وفاداروں اور اخبار ظنیہ کے مانے والوں کی طرف رجوع کرتا ہے تو پھر علوم بد یہ ضرور یہ کا ماننا کس راست بازی اور صدق اور صفا کو ثابت کر سکتا ہے ہم صریح دیکھتے ہیں کہ جیسے ہم اس بات کے قائل ہیں کہ چار کا نصف دو ہیں ایسا ہی ایک اول درجہ کا بدمعاش بھی اسی بات کا قائل ہوتا ہے ہم دنیا نظر سے کچھ خطوط انسان بننے کے اس میں دکھائی دیتے ہیں چنانچہ اکثر بچے اس حالت میں بھی ساقط ہو جاتے ہیں جن عورتوں کو کبھی یہ اتفاق پیش آیا ہے یا وہ دایہ کا کام کرتی ی ہیں وہ اس حال سے خوب واقف ہیں پھر چوتھا درجہ وہ ہے جب مضغہ سے ہڈیاں بنائی جاتی ہیں جیسا کہ آیت فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عظمات بیان فرما رہی ہے ۔ مگر المضغه پر جو الف لام ہے وہ تخصیص کے لئے ہے جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ تمام مضغہ ہڈی نہیں بن جا تا بلکہ جہاں جہاں ہڈیاں درکار ہیں باذنہ تعالیٰ وہی نرم جاتا گوشت کسی قدر صلب ہو کر ہڈی کی صورت بن جاتا ہے اور کسی قدر بدستور نرم گوشت حمد بخاری کتاب المناقب (شمس) ا الحديد : ۱۸ المومنون : ۱۵