آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 193
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۹۳ آئینہ کمالات اسلام خوشخبری ہے گویا یہ آیت کہ قل یا عبادی دوسرے لفظوں میں اس طرح پر ہے کہ قل یا ۱۹۳۶ کے متبعی یعنی اے میری پیروی کرنے والو جو بکثرت گناہوں میں مبتلا ہو رہے ہو رحمت الہی سے نومیدمت ہو کہ اللہ جل شانه به برکت میری پیروی کے تمام گناہ بخش دے گا ۔ اور اگر عباد سے صرف اللہ تعالیٰ کے بندے ہی مراد لئے جائیں تو معنے خراب ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ ہرگز درست نہیں کہ خدا تعالیٰ بغیر تحقق شرط ایمان اور بغیر تحقق شرط پیروی تمام مشرکوں اور کافروں کو یونہی بخش دیوے ایسے معنے تو نصوص ہینہ قرآن سے صریح مخالف ہیں۔ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ ماحصل اس آیت کا یہ ہے کہ جو لوگ دل و جان سے تیرے یا رسول اللہ غلام بن جائیں گے ان کو وہ نور ایمان اور محبت اور عشق بخشا جائے گا بعض حصے علوم طبیعی اور طبابت اور بیئت صاف کئے گئے ہیں تو پھر ایسے علوم بدیہہ ضرور یہ کو نجات انسانی سے تعلق ہی کیا تھا جب کہ نجات کی یہ حقیقت ہے کہ وہ اللہ جل شانہ کا محبت اور پیار سے بھرا ہوا ایک فضل ہے جو راست بازوں اور صادقوں اور بچے ایمانداروں اور کامل کھل گئی اور فیضان سماوی زمین پر جاری ہو گئے اب پھر ہم اپنے پہلے کلام کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ نطفتین مرد اور عورت کے جو آپس میں مل جاتے ہیں وہ ب اول مرتبہ تکوین کا ہے ۔ اور پھر ان میں ایک جوش آ کر وہ مجموعہ خلقتین جو قوت عاقدہ اور منعقدہ اپنے اندر رکھتا ہے سرخی کی طرف مائل ہو جاتا ہے گویا وہ منی جو پہلے خون سے بنی تھی پھر اپنے اصلی رنگ کی طرف جو خونی ہے عود کر آتی ہے یہ دوسرا درجہ ہے پھر وہ خون جما ہوا جس کا نام علاقہ ہے ایک گوشت کا مضغہ ہو جاتا ہے جو انسانی شکل کا کچھ خاکہ نہایت دقیق طور پر اپنے اندر رکھتا ہے یہ تیسرا درجہ ہے اور اس درجہ پر اگر بچہ ساقط ہو جائے تو اس کے دیکھنے سے غور کی بقیه حاش در حاشیه