آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 190

روحانی خزائن جلد ۵ 190 آئینہ کمالات اسلام ۱۹۰ الجز و ۲۴ سورۃ الزمر یعنی کہہ اے میرے غلامو جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے کہ تم رحمت الہی سے نا امید مت ہو خدا تعالی سارے گناہ بخش دے گا۔ اب اس آیت میں بجائے قل یا عباد الله کے جس کے یہ معنے ہیں کہ کہہ اے خدا تعالیٰ کے بندو یہ فرمایا کہ قل یا عبادی یعنی کہہ کہ اے میرے غلامو ۔ اس طرز کے اختیار کرنے میں بھید یہی ہے کہ یہ آیت اس لئے نازل ہوئی ہے کہ تا خدا تعالیٰ بے انتہا رحمتوں کی بشارت دیوے اور جو لوگ کثرت گنا ہوں سے دل شکستہ ہیں ان کو تسکین بخشے سو اللہ جل شانہ نے اس آیت میں چاہا کہ اپنی رحمتوں کا ایک نمونہ پیش کرے اور بندہ کو دکھلا وے کہ میں کہاں تک اپنے وفادار بندوں کو انعامات خاصہ سے مشرف کرتا ہوں سو اس نے قل یا عبادی کے کے مقرب ہو جائیں گے ہر گز نہیں پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے فرشتوں کو مانتا ہے بہشت اور دوزخ کے وجود پر ایمان لاتا ہے اور قیامت میں میزان عمل کو قبول کرتا ہے قیامت کی پل صراط پر صدق دل سے یقین رکھتا ہے اور اس حقیقت کو مانتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی کتابیں ہیں جو دنیا میں نازل ہوئی ہیں اور اس کے رسول بھی ہیں جو دنیا میں آئے ہیں اور اس کی طرف سے حشر اجسام بھی ہے جو ایک دن ہوگا اور خدا بھی موجود ہے جو در حقیقت واحد لا شریک ہے تو وہ شخص عند اللہ قابل نجات ٹھہر جاتا ہے۔ پیارو! ! یقینا سمجھو کہ اس کی یہی وجہ ہے کہ یہ شخص خدا تعالیٰ پر جو ہنوز در پردہ غیب ہے ایمان لاتا ہے اور اس کی ک بچہ بڑھتا ہے بڑھتی جاتی ہے یاں تک کہ خاکی رنگ کی ایک تھیلی سی ہو جاتی ہے جو گٹھڑی کی طرح نظر آتی ہے اور اپنی تکمیل خلقت کے دنوں تک بچہ اسی میں ہوتا ہے قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے اور حال کی تحقیقا تیں بھی اس کی مصدق ہیں کہ عالم کبیر