آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 191

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۹۱ آئینہ کمالات اسلام لفظ سے یہ ظاہر کیا کہ دیکھو یہ میرا پیارا رسول دیکھو یہ برگزیدہ بندہ کہ کمال طاعت سے (۱۹۱) کس درجہ تک پہنچا کہ اب جو کچھ میرا ہے وہ اس کا ہے۔ جو شخص نجات چاہتا ہے وہ اس کا غلام ہو جائے یعنی ایسا اس کی اطاعت میں محو ہو جاوے کہ گویا اس کا غلام ہے تب وہ گو کیسا ہی پہلے گناہ گار تھا بخشا جائے گا جاننا چاہیئے کہ عبد کا لفظ لغت عرب میں غلام کے معنوں پر بھی بولا جاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مین شیر کے لیے اور اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص اپنی نجات چاہتا ہے وہ اس نبی سے غلامی کی نسبت پیدا کرے یعنی اس کے حکم سے باہر نہ جائے اور اس کے دامن طاعت سے اپنے تئیں وابستہ جانے جیسا کہ غلام جانتا ہے تب وہ نجات پائے گا اس مقام میں ان کو رباطن نام کے موحد وں پر افسوس آتا ہے کہ جو ہمارے کتاب کے اخبار غیبیہ کو صحیح سمجھتا ہے تو وہ خدا تعالی کے نزدیک ایک راست باز اور نیک خیال اور نیک نظن اور فرمانبردار ٹھہرتا ہے تب اس صدق کی برکت سے بخشا جاتا ہے ورنہ مجرد معلومات کو نجات سے تعلق ہی کیا ہے کیا اگر کوئی روز قیامت میں کل حجابوں کے رفع کے بعد یہ کہے کہ یہ بہشت اور دوزخ جو سامنے نظر آ رہا ہے اور یہ ملا یک جو صف باند ھے کھڑے ہیں اور یہ میزان جس سے عمل مثل رہے ہیں اور یہ رب العالمین جو عدالت کر رہا ہے ۔ ان سب باتوں پر اب میں ایمان لایا تو کیا ایسے ایمان سے وہ رہا ہو جائے گا ہرگز نہیں پس اگر رہا نہیں ہوگا تو اس کا سبب کیا ہے کیا اس کا یہ سبب نہیں کہ اس وقت حاشیه در حاشیه بھی اپنے کمال خلقت کے وقت تک ایک گٹھڑی کی طرح تھا جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ أَوَلَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُ وا اَنَّ السَّمَوتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْ حَيَّ الجز نمبر یعنی فرماتا ہے کہ کیا کافروں نے آسمان اور البقرة: ٢٢٢ الانبياء: ٣١