آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 181
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۸۱ آئینہ کمالات اسلام ده ۱۸۱ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ے کی تصویر سامنے نظر آ جاوے اور نقش راسخ ملكوت السموات والارض کا جلی قلم کے ساتھ دل میں لکھا جائے یہاں تک کہ اس کی عظمت اور ہیبت اور کبریائی تمام نفسانی جذبات کو اپنی قہری شعاعوں سے مضمحل اور خیرہ کر کے ان کی جگہ لے لے اور ایک دائمی رُعب اپنا دل پر جما دیوے اور اپنے قہری حملہ سے نفسانی سلطنت کے تخت کو خاک مذلت میں پھینک دیوے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیوے اور اپنے خوفناک کرشموں سے غفلت کی دیواروں کو گرا دے اور تکبر کے میناروں کو توڑ دے اور ظلمت بشری کی حکومتیں وجود انسانی کی دارالسلطنت سے بکلی اٹھا دیوے اور جو جذبات نفس امارہ کی طبیعت انسانی پر حکومت کرتے تھے اور باعزت سمجھے گئے تھے ان کو ذلیل اور خوار اور پیچ اور بے مقدار کر کے دکھلا دیوے۔ بقیه حاشیه در حاشیه کی نئی روشنی ) که خاک بر فرق این روشنی ) نو تعلیم یافتہ لوگوں کو اوہام باطلہ سکھا رہی ہے اور ہم نے تو ڈرتے ڈرتے اس قدر بیان کیا ہے اکثر ان کی نظر تو فقط اسی پر نہیں ٹھہرتی بلکہ حضرت خدا وند تعالیٰ کی نسبت بھی ایسا ہی جرح پیش کر کے صانع حقیقی کے وجود سے فارغ ہو بیٹھے ہیں ۔ امالجواب پس واضح ہو کہ یہ خیال کہ فرشتے کیوں نظر نہیں آتے بالکل عبث ہے فرشتے خدا تعالی کے وجود کی طرح نہایت لطیف وجود رکھتے ہیں پس کس طرح ان آنکھوں سے نظر آدیں کیا خدا تعالیٰ جس کا وجود ان فلسفیوں کے نزدیک بھی میں ڈال دی ۔ پس کیا ہی مبارک ہے وہ خدا جو اپنی صنعت کاری میں تمام صناعوں سے بلحاظ حسن صنعت و کمال عجائبات خلقت بڑھا ہوا ہے ۔ الانعام: ۱۹ اب دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ بھی اپنا قانون قدرت یہی بیان فرمایا کہ انسان