آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 173

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۷۳ آئینہ کمالات اسلام آیات کا مقابلہ کر کے صاف طور پر کھلتا ہے کہ اس جگہ ضال کے معنے گمراہ نہیں ہے بلکہ ۱۷۳ انتہائی درجہ کے تعشق کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ حضرت یعقوب کی نسبت اس کے مناسب یہ آیت ہے اِنَّكَ لَفِي ضَلِكَ الْقَدِيمِ سو یہ دونوں لفظ ظلم اور ضلالت اگر چہ ان معنوں پر بھی آتے ہیں کہ کوئی شخص جادہ اعتدال اور انصاف کو چھوڑ کر اپنے شهوات غضبیه یا بہیمیہ کا تابع ہو جاوے۔ لیکن قرآن کریم میں عشاق کے حق میں بھی آئے ہیں جو خدا تعالیٰ کے راہ میں عشق کی مستی میں اپنے نفس اور اس کے جذبات کو پیروں کے نیچے کچل دیتے ہیں۔ اسی کے مطابق حافظ شیرازی کا یہ شعر ہے۔ آسمان بار امانت نتوانست کشید قرعہ فال بنام من دیوانه زدند اس دیوانگی سے حافظ صاحب حالت تعشق اور شدت حرص اطاعت مراد لیتے ہیں۔ کیونکہ نفس ناطقه نہایت تجرد اور لطافت میں تھا اور بدن انسان محجوب بنفسہ اور کثافت اور ظلمت میں پڑا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ان دونوں کے درمیان میں قومی روحانیہ اور حسیہ کو دو جهتین پیدا کیا تا وہ قومی نفس ناطقہ سے فیضان قبول کر کے تمام جسم کو اس سے متادب اور مہذب کریں ۔ بقیه حاشیه در حاشیه جاننا چاہئے کہ انسان بھی ایک عالم صغیر ہے اور عالم کبیر کے تمام لیوان اور صفات اور خواص اور کیفیات اس میں بھری ہوئی ہیں جیسا کہ اس کی طاقتوں اور قوتوں سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ہر ایک چیز کی طاقت کا یہ نمونہ ظاہر کر سکتا ہے مین اور آسمانوں کو چھ دن میں بنایا اور پھر عرش پر ٹھہرا یہ چھ دن کی کیوں تخصیص ہے یہ تو تسلیم کیا کہ خدا تعالیٰ کے کام اکثر تدریجی ہیں جیسا کہ اب بھی اس کی خالقیت جو جمادات اور نباتات اور حیوانات میں اپنا کام کر رہی ہے تدریجی طور پر ہی ہر ایک چیز کو اس کی خلقت کا ملہ تک پہنچاتی ہے يوسف: ۹۶