آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 167

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۶۷ آئینہ کمالات اسلام ماسوا اس کے اس معنے کے کرنے میں یہ عاجز متفر دنہیں بڑے بڑے محقق اور فضلاء (۱۲۷) نے جو اہل زبان تھے یہی معنے کئے ہیں چنانچہ منجملہ ان کے صاحب فتوحات مکیہ ہیں جو اہل زبان بھی ہیں وہ اپنی ایک تفسیر میں جو مصر کے چھا پہ میں چھپ کر شائع ہوئی ہے یہی معنے کرتے ہیں چنانچہ انہوں نے زیر تغیر آیت وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا ے یہی معنے لکھے ہیں کہ یہ ظلوم و جہول مقام مدح میں ہے اور اس سے مطلب یہی ہے کہ انسان مومن احکام الہی کی بجا آوری میں اپنے نفس پر اس طور سے ظلم کرتا ہے جو نفس کے جذبات اور خواہشوں کا مخالف ہو جاتا ہے اور اس سے اس کے جوشوں کو گھٹاتا ہے اور کم کرتا ہے ۔ اور صاحب تفسیر حسینی خواجہ محمد پارسا کی تفسیر سے نقل کرتے ہیں کہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ انسان نے اس امانت کو اس لئے اٹھا لیا کہ وہ ظلوم تھا یعنی اس بات پر قادر تھا کہ اپنے نفس اور اس کی خواہشوں سے ނ ہوں اور آنکھ میں چکانے سے رعد بار د کو دور کر دیتی ہوں اور اصلیل میں چکانے سے نافع حبس البول ہوں اور مشک وغیرہ ادویہ مناسبہ کے ساتھ باہ کیلئے سخت موثر ہوں اور صرع اور سکتہ اور فالج اور لقوہ اور استرخاء اور رعشہ اور خدر اور اس قسم کی تمام امراض کو نافع ہوں اور اعصاب اور دماغ کے لئے ایک اکسیر ہوں اور اگر میں نہ ملوں تو اکثر باتوں میں زرنباد میرا قائم مقام ہے۔ غرض یہ تمام چیزیں بزبان حال اپنی اپنی تعریف کر رہی ہیں اور محجوب بانفسہا ہیں یعنی اپنے خواص کے پردہ میں مجوب ہیں اس لئے مہدہ فیض سے دور پڑ گئی ہیں اور بغیر ایسی چیزوں کے توسط کے جو اِن حجابوں سے منزہ ہوں مبدء فیض کا کوئی ارادہ ان سے دنیا میں اپنے قضا وقدر کو جلد بھی نازل کرتا ہے اور دیر سے بھی ۔ ہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صفات قہر یہ اکثر جلدی کے رنگ میں ظہور پذیر ہوتے ہیں اور صفات لطیفہ دیر اور توقف کے پیرایہ میں مثلاً الاحزاب : ۷۳