آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 166
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۶۶ آئینہ کمالات اسلام (۱۲۲) کلام اللہ کے کسی اور سند کی ضرورت نہیں۔ کلام الہی کے بعض مقامات بعض کی شرح ہیں۔ پس جس حالت میں خدا تعالیٰ نے بعض متقیوں کا نام بھی ظالم رکھا ہے اور مراتب ثلاثہ تقوی سے پہلا مرتبہ تقویٰ کا ظلم کو ہی ٹھہرایا ہے تو اس سے ہم نے قطعی اور یقینی طور پر سمجھ لیا کہ اس ظلم کے لفظ سے وہ ظلم مراد نہیں ہے جو تقویٰ سے دور اور کفار اور مشرکین اور نافرمانوں کا شعار ہے بلکہ وہ ظلم مراد ہے جو سلوک کے ابتدائی حالات میں متقیوں کے لئے شرط متحتم ہے یعنی جذبات نفسانی پر حملہ کرنا اور بشریت کی ظلمت کو اپنے نفس سے کم کرنے کے لئے کوشش کرنا جیسا کہ اس دوسری آیت میں بھی کم کرنے کے ہی معنی ہیں اور وہ یہ ہے وَلَمْ تَظْلِمُ مِنْهُ شَيْئًا اى و لم تنقص دیکھو قاموس اور صحاح اور صراح جو ظلم کے معنے کم کرنے کے بھی لکھے ہیں اور اس آیت کے یہی معنے گئے ہیں یعنی و لم تنقص ۔ حاشیه در کے ساتھ وجع مفاصل کو مفید ہوں اور سنگ گردہ اور مثانہ کو نافع ہوں اگر بول بند ہو جائے تو شیرہ تخم خیارین کے ساتھ جلد اس کو کھول دیتی ہوں اور قولنج ریحی کو مفید ہوں اور اگر بچہ پیدا ہونے میں مشکل پیش آ جائے تو آب عنب العلب یا حلبہ یا شیرہ خارخسک کے ساتھ صرف دو دانگ پلانے سے وضع حمل کرا دیتی ہوں اور ام الصبیان اور اکثر امراض دماغی اور اعصابی کو مفید ہوں اور اور ام مغابن یعنی پس گوش اور زیر بغل اور بن ران اور خناق اور خنازیر اور تمام اور ام گل کو نفع پہنچاتی ہوں اور طاعون کے لئے مفید ہوں اور سرکہ کے ساتھ پلکوں کے ورم کو نفع دیتی ہوں اور دانتوں پر ملنے سے ان کے اس درد کو دور کر دیتی ہوں جو بوجہ مادہ باردہ ہو اور بواسیر پر ملنے سے اس کی درد کو ساکن کر دیتی کہ جب کہ دونوں شق سرعت اور بطور پر قدرت ہوا اگر ایک شق پر قدرت ہو تو وہ قدرت نہیں بلکہ عجز اور ناتوانی ہے تعجب کہ ہمارے مخالف خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کو بھی نہیں دیکھتے کہ الكهف : ۳۴