آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 162
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۶۲ آئینہ کمالات اسلام ۱۲ صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی جیسا کہ خود خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ، وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِئُ مُسْتَقِيمَا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيم فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ - وَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْلِمَ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ - یعنی ان کو کہدے کہ میری نماز اور میری پرستش میں جد و جہد اور میری قربانیاں اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب خدا کے لئے اور اس کی راہ میں ہے۔ وہی خدا جو تمام عالموں کا رب ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں اول المسلمین ہوں یعنی دنیا کی ابتداء سے اس کے اخیر تک میرے جیسا اور کوئی کامل انسان نہیں جو ایسا اعلیٰ درجہ کا فنافی اللہ ہو اور ایک ایسی ہستی ہو جو بکلی نیستی کے مشابہ ہو کیونکہ ان تمام چیزوں کی ہستی نیستی کے مشابہ نہیں ہر ایک چیز اس قسم کی مخلوقات میں سے بزبان حال اپنی ہستی کا بڑے زور و شور سے اقرار کر رہی ہے آفتاب کہ رہا ہے کہ میں وہ ہوں جس پر تمام گرمی و سردی و روشنی کا مدار ہے جو ۳۶۵ صورتوں رہا پر مدار میں تین سو پینسٹھ قسم کی تاثیریں دنیا میں ڈالتا ہے اور اپنی شعاعوں کے مقابلہ سے گرمی اور اپنی انحراف شعاعوں سے سردی پیدا کرتا ہے اور اجسام اور اجسام کے مواد اور اجسام کی شکلوں اور حواس پر اپنی حکومت رکھتا ہے۔ زمین کہہ رہی ہے کہ میں وہ ہوں کہ جس پر ہزار ہا ملک آباد ہیں اور جو طرح طرح کی نباتات پیدا کرتی اور طرح طرح کے جواہر اپنے اندر طیار کرتی اور آسمانی تا ثیرات کو عورت کی طرح قبول کرتی ہے۔ آگ بزبان حال کہہ رہی ہے کہ میں ایک جلانے والی بقیه حاشیه در حاشیه چیز خوانخواه بلا توقف ہو جائے اور نہ ارادہ کے مفہوم میں ضروری طور پر یہ بات داخل ہے کہ جس چیز کا ارادہ کیا گیا ہے وہ اسی وقت ہو جائے بلکہ اسی حالت میں ایک قدرت اور ایک ارادہ کو کامل قدرت الانعام: ۱۶۳ ۱۶۴ الانعام: ۱۵۴ ۳ ال عمران ۳۲ ۲ ال عمران: ۲۱ ۵ المومن: ۶۷