آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 158

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۵۸ آئینہ کمالات اسلام ۱۵۸) فرشتوں پر بھی ترجیح دی ہے اس مقام میں اس کی یہی فضیلت پیش کی ہے کہ وہ ظلوم اور جھول ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا ل یعنی اُس امانت کو جور بوبیت کا کامل ابتلا ہے جس کو فقط عبودیت کا ملہ اٹھا سکتی ہے انسان نے اٹھالیا کیونکہ وہ ظلوم اور جمہول تھا یعنی خدا تعالیٰ کے لئے اپنے نفس پر سختی کر سکتا تھا اور غیر اللہ سے اس قدر دور ہو سکتا تھا کہ اس کی صورت علمی سے بھی اس کا ذہن خالی ہو جاتا تھا۔ واضح ہو کہ ہم سخت غلطی کریں گے اگر اس جگہ ظلوم کے لفظ سے کافر اور سرکش اور مشرک اور عدل کو چھوڑنے والا مراد لیں گے کیونکہ یہ ظلوم جمہول کا لفظ اس جگہ اللہ جل شانہ نے انسان کے لئے مقام مدح میں استعمال کیا ہے نہ مقام زم میں اور اگر نعوذ باللہ یہ مقام زم میں ہو تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ سب سے بدتر انسان ہی تھا جس نے خدا تعالیٰ کی پاک امانت کو اپنے سر پر اٹھا لیا اور اس کے حکم کو مان لیا۔ بلکہ نعوذ باللہ یوں کہنا پڑے گا کہ سب سے زیادہ صدق دل سے خدا تعالیٰ کو طلب کرنے والے اور اس کی معرفت کی راہوں کے بھوکے اور پیا سے بہت کم ہیں اور اکثر ایسے لوگوں سے دنیا بھری پڑی ہے جو پکارنے والے کی آواز نہیں سنتے اور بلانے والے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور جگانے والے کے شور سے آنکھ نہیں کھولتے۔ ہم نے اس امر کی تصدیق کرنے کے لئے خداتعالی سے فضل اور توفیق اور ان پاکر ہر ایک مخالف کو بلایا مگر کوئی شخص دل کے صدق اور سچی طلب سے ہماری طرف متوجہ نہیں ہوا اور یا در ہے کہ جس طرح تنزل امر جسمانی اور روحانی دونوں طور پر آسمانوں سے ہوتا ہے اور ملائک کی تو جہات اجرام سماوی کی تاثیرات کے ساتھ مخلوط ہو کر زمین پر گرتی ہیں ایسا ہی زمین اور زمین والوں میں بھی جسمانی اور روحانی دونوں قو تیں قابلیت کی بقيه حاشیه در حاشیه عطا کی گئی ہیں تا قوابل اور مؤثرات میں بکلی مساوات ہو۔ اور سات زمینوں سے مراد زمین کی آبادی کے سات طبقے ہیں جو نسبتی طور پر بعض بعض کے تحت واقع ہیں اور کچھ بے جا نہ ہوگا کہ اگر ہم دوسرے لفظوں میں ان طبقات سبعہ الاحزاب : ۷۳