آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 152

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۵۲ آئینہ کمالات اسلام یہ بات بخوبی یا درکھنی چاہیے کہ انسان عارف پر اسی دنیا میں وہ تمام عجائبات کشفی رنگوں میں کھل جاتے ہیں کہ جو ایک محجوب آدمی قصہ کے طور پر قرآن کریم کی ان آیات میں پڑھتا ہے جو معاد کے بارے میں خبر دیتی ہیں سو جس کی نظر حقیقت تک نہیں پہنچتی وہ ان بیانات سے تعجب میں پڑ جاتا ہے بلکہ بسا اوقات اس کے دل میں اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا عدالت کے دن تخت پر بیٹھنا اور ملائک کا صف باندھے کھڑے ہونا اور ترازو میں عملوں کا تلنا اور لوگوں کا پل صراط پر سے چلنا اور سزا جزا کے بعد موت کو بکرے کی طرح ذبح کر دینا اور ایسا ہی اعمال کا خوش شکل یا بد شکل انسانوں کی طرح لوگوں پر ظاہر ہونا اور بہشت میں دودھ اور شہد کی نہریں چلنا وغیرہ وغیرہ یہ سب باتیں صداقت اور معقولیت سے دور معلوم ہوتی ہیں لیکن یہ تمام شکوک اس ایک ہی نکتہ کے حل ہونے سے رفع ہو جاتے ہیں کہ عالم آخرت کوئی تنبیہ نازل کرنا منظور ہوتا ہے تو بارش کو جس ملک سے چاہے روک لیتا ہے یا اس میں افراط تفریط رکھ دیتا ہے کبھی ایک ملک یا ایک شہر یا ایک گاؤں یا ایک قطعہ زمین کو بعض آدمیوں کو سزا دینے کے لئے اس بارش کے نفع سے بکلی محروم کر دیتا ہے اور جس قدر چاہتا ہے فقط اسی قدر بادل کو آسمان کی فضا میں پھیلاتا ہے یہاں تک کہ ایک کھیت میں بارش برستی ہے اور ایک دوسرا کھیت جو اس کے ساتھ ملحق ہے اس بارش کے ایک قطرہ سے بھی بہرہ یاب نہیں ہوتا حاشیه وَ السَّمَوتُ مَطوِيتُ بِيَمِينِه لا یعنی دنیا کے فنا سے ہو کرنے کے وقت خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ سے لپیٹ لے گا اب دیکھو کہ اگر شق السماوات سے درحقیقت پھاڑ نا مراد لیا یا جائے تو مطويات کا لفظ اس سے مغائر اور منافی پڑے گا کیونکہ اس میں پھاڑنے کا کہیں ذکر نہیں۔ صرف لیٹنے کا ذکر ہے۔ پھر ایک دوسری آیت ہے جو سورۃ الانبیاء جز و ۱۷ میں ہے اور وہ یہ ہے يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِ لِلْكُتُبِ كَمَا بَدَانَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَعِلِينَ یعنی ہم اس دن آسمانوں کو ایسا لپیٹ لیں گے جیسے ایک خط متفرق ل الزمر: ۷۸ الانبیاء : ۱۰۵ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے فنا کرنے ہونا چاہیے۔ (ناشر) ۱۵۲