آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 153
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۵۳ آئینہ کمالات اسلام ایک تمثی خلق کا عالم ہے یہ خدا تعالیٰ کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے کہ وہ بعض اشیاء کو (۱۵۳) تمثی طور پر ایسا ہی پیدا کر دیتا ہے جیسا دوسرے طور پر ہوا کرتا ہے جیسے تم دیکھتے ہو کہ آئینہ میں تمہاری ساری شکل منعکس ہو جاتی ہے اور تم خیال کر سکتے ہو کہ کس طرح عکسی طور پر تمہاری تصویر کھینچی جاتی ہے کیسے تمہارے تمام خال و خط ان میں آجاتے ہیں۔ پھر اگر خدا تعالیٰ روحانی امور کی سچ سچ تصویر کھینچ کر اور ان میں صداقت کی جان ڈال کر تمہاری آنکھوں کے سامنے رکھ دیوے تو کیوں اس سے تعجب کیا جاوے اللہ جل شانہ ڈھونڈ نے والوں پر اسی دنیا میں یہ تمام صداقتیں ظاہر کر دیتا ہے اور آخرت میں کوئی بھی ایسا امر نہیں جس کی کیفیت اس عالم میں کھل نہ سکے۔ اور اگر یہ اعتراض کسی کے دل میں خلجان کرے کہ آیت وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا - کے بعد میں یہ آیت ہے کہ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ نَذَرُ الظَّلِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا لا یعنی پھر ہم ورود اور خشک اور دھوپ میں سڑا ہوا رہ جاتا ہے ۔ ایسا ہی کبھی ایک ہوا کا بگڑنا ایک شہر یا ایک اقلیم یا ایک محلہ کو سخت وہا میں ڈالتا ہے اور دوسری طرف کو بکلی بچا لیتا ہے اسی طرح ہم ہزار با دقیق در دقیق ربانی مصالح دیکھتے ہیں ۔ جن کو ہم بے شعور عناصر اور اجرام کی طرف ہرگز منسوب نہیں کر سکتے اور یقینا ہم جانتے ہیں کہ ایسے مصالح سے مضامین کو اپنے اندر لپیٹ لیتا ہے۔ اور جس طرز سے ہم نے اس عالم کو وجود کی طرف حرکت دی تھی انہیں قدموں پر پھر یہ عالم عدم کی طرف لوٹایا جائے گا یہ وعدہ ہمارے ذمہ ہے جس کو ہم کرنے والے ہیں۔ بخاری نے بھی اس جگہ ایک حدیث لکھی ہے جس میں جائے غور یہ لفظ ہیں۔ و تکون السنوات بيمينه یعنی لینے کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں چھپا لے گا اور جیسا کہ اب اسباب ظاہر اور مسبب پوشیدہ ہے اس وقت مسبب ظاہر اور اسباب زاویہ عدم میں چھپ جائیں گے اور ہر یک چیز اس کی طرف رجوع کر کے تجلیات قہر یہ میں مخفی ہو جائے گی۔ اور ہریک چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دے گی اور تجلیات الہیہ مریم: ۷۳