آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 147

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۴۷ آئینہ کمالات اسلام ہم صراط کو چھوڑ کر دائیں طرف ہوئے تب بھی جہنم میں گرے اور اگر بائیں طرف ہوئے تب بھی ۱۴۷ گرے اور اگر سید ھے صراط مستقیم پر چلے تب جہنم سے بچ گئے۔ یہی صورت جسمانی طور پر عالم آخرت میں ہمیں نظر آ جائے گی اور ہم آنکھوں سے دیکھیں گے کہ در حقیقت ایک صراط ہے جو پل کی شکل پر دوزخ پر بچھایا گیا ہے جس کے دائیں بائیں دوزخ ہے تب ہم مامور کئے جائیں گے کہ اس پر چلیں۔ سو اگر ہم دنیا میں صراط مستقیم پر چلتے رہے ہیں اور دائیں بائیں نہیں چلے تو ہم کو اس صراط سے کچھ بھی خوف نہیں ہوگا اور نہ جہنم کی بھاپ ہم تک پہنچے گی اور نہ کوئی فزع اور خوف ہمارے دل پر طاری ہوگا بلکہ نور ایمان کی قوت سے چمکتی ہوئی برق کی طرح ہم اس سے گذر جائیں گے کیونکہ ہم پہلے اس سے گذر چکے ہیں اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا وَهُمْ مِنْ فَزَعِ يَوْمَذٍ أُمِنُونَ الجزو نمبر ٣٠ سورة النمل ۔ یعنی نیکی کرنے والوں کو قیامت کے دن اس نیکی سے زیادہ بدلا ملے گا تغیرات اجرام سماوی اور حوادث کائنات الجو جو بڑے بڑے مصالح پر مشتمل اور بنی آدم کی بقا اور صحت اور ضرورات معاشرت کی اس شرط سے ممد و معاون ہیں کہ ان میں افراط اور تفریط نہ پایا جائے اگر یہ خود بخود ہوتے اور ایسی ذی شعور چیزوں کا درمیان قدم نہ ہوتا جو ارادہ اور فہم اور مصلحت اور اعتدال کی رعایت کر سکتے ہیں اور ہمارا تمام کاروبار زندگی اور بقا اور ضرورات معاشرت کا صاف ایسی چیزوں پر چھوڑا جاتا جو نہ شعور رکھتے ہیں نہ ادراک اور نہ مصلحت وقت کو پہچان سکتے ہیں اور نہ اپنے کاموں کو افراط اور تفریط سے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور نہ نیک انسان بقیه حاشیه در حاشیه اور پہلے بچہ پھر جوان اور پھر بڑھا ہوتا ہے اور آخر کسی قدر عمر پا کر مر جاتا ہے اور ایسا ہی ہمارا یہ قول کہ انسان سوتا بھی ہے اور کھاتا بھی اور آنکھوں سے دیکھتا اور ناک سے سونگھتا اور کانوں کے ذریعہ سے سنتا اور پیروں سے چلتا اور ہاتھوں سے کام کرتا اور دوکانوں میں اس کا سر ہے۔ ایسا ہی اور صد ہا ہا تھیں اور ہر ایک نوع نباتات اور جمادات اور حیوانات کی نسبت جو ہم نے طرح طرح کے خواص دریافت کئے ہیں ان سب کا ذریعہ بجز استقراء کے اور کیا ہے النمل: ٩٠