آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 141

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۴۱ آئینہ کمالات اسلام نہیں ہیں جو دائرہ اتقا سے بکلی خارج ہیں بلکہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں کہ جو ظلمت ۱۴۱ معصیت میں مبتلا تو ہیں مگر با ایں ہمہ خدا تعالیٰ سے سرکش نہیں ہیں بلکہ اپنے سرکش نفس سے کشتی کرتے رہتے ہیں اور تکلف اور تصنع سے اور جس طرح بن پڑے حتی الوسع نفس کے جذبات سے رکنا چاہتے ہیں مگر کبھی نفس غالب ہو جاتا ہے اور معصیت میں ڈال دیتا ہے اور کبھی وہ غالب آ جاتے ہیں اور روروکر اس سیہ دھبے کو دھو ڈالتے ہیں اور یہ صفت جو ان میں موجود ہوتی ہے دراصل مذموم نہیں ہے بلکہ محمود اور ترقیات غیر متناہیہ کا مرکب اور مجاہدات شاقہ کا ذریعہ ہے اور در حقیقت یہی صفت مخالفت نفس کی جو دوسرے لفظوں میں ظلومیت کے اسم سے بھی موسوم ہے ایک نہایت قابل تعریف مقسم اور مد تیر فرشتے ہیں اور اب یہ قول اللہ جل شانہ کا کہ شہب ثاقبہ کو چلانے والے وہ ستارے ہیں جو سماء الدنیا میں ہیں بظاہر منافی اور مبائن ان آیات سے دکھائی دیتا ہے جو فرشتوں کے بارے میں آئی ہیں لیکن اگر بنظر غور دیکھا جائے تو کچھ منافی نہیں کیونکہ ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے آسمان اور آسمانی اجرام کیلئے بطور جان کے ہیں اور ظاہر ہے کہ کسی شے کی جان اس شے سے جدا نہیں ہوتی بقيه حاشیه در حاشیه قابل خرق و التیام نہیں اور اس قدر بڑا کہ گویا چاند اور سورج کو اس کی ضخامت کے ساتھ کچھ بھی نسبت نہیں ۔ پھر بھی وہ ان دور بین آلات سے نظر نہیں آ سکا ۔ اگر دور کے آسمان نظر نہیں آتے تھے تو سماء الدنیا جو سب سے قریب ہے ضرور نظر آ جانا چاہئے تھا پس کچھ شک نہیں کہ جو یونانیوں نے عالم بالا کی تصویر دکھائی ہے وہ صحیح نہیں اور اس قدر اس پر اعتراض پیدا ہوتے ہیں کہ جن سے مخلصی حاصل کرنا ممکن کر