آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 140
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۴۰ آئینہ کمالات اسلام (۱۴۰) جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ المذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ پس اس علت غائی پر نظر ڈال کر یقینی اور قطعی طور پر یہ بات فیصلہ پا جاتی ہے کہ ظالم کا لفظ اس آیت میں ایسے شخص کی نسبت ہرگز اطلاق نہیں پایا کہ جو عمد انا فرمان اور سرکش اور طریق عدل کو چھوڑنے والا اور شرک اور بے ایمانی کو اختیار کرنے والا ہو ۔ کیونکہ ایسا آدمی تو بلا شبہ دائرہ انتقا سے خارج ہے اور اس لائق ہر گز نہیں ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ قسم متقیوں میں اس کو داخل کیا جائے مگر آیت ممدوحہ میں ظالم کو متقیوں اور مومنوں کے گروہ میں نہ صرف داخل ہی کیا ہے بلکہ متقیوں کا سردار اور ان میں سے برگزیدہ ٹھہرا دیا ہے۔ پس اس سے جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں ثابت ہوا کہ یہ ظالم ان ظالموں میں سے پھر جب وہ ملائک جان کی طرح اس قالب سے نکل جائیں گے تو آسمان کا نظام ان کے نکلنے سے درہم برہم ہو جائے گا جیسے جان کے نکل جانے سے قالب کا نظام در ہم پر ہم ہو جاتا ہے پھر ایک اور آیت قرآن کریم کی بھی اسی مضمون پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے وَلَقَدْ زَيَّنَا السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِمَصَابِعَ وَجَعَلْنَهَا رُجُوْمًا لِلشَّيطِينِ سورۃ الملک الجز و نمبر ۲۹ یعنی ہم نے سماء الدنیا کو ستاروں کے ساتھ زینت دی ہے اور ستاروں کو ہم نے رجم شیاطین کیلئے ذریعہ ٹھہرایا ہے اور پہلے اس سے نص قرآنی سے ثابت ہو چکا ہے کہ آسمان سے زمین تک ہر یک امر کے یونانیوں کی اس رائے پر جس قدر اعتراض وارد ہوتے ہیں وہ پوشیدہ نہیں قيه حاشیه در حاشیه نہ صرف قیاسی طور پر بلکہ تجربہ بھی ان کا مکذب ہے جس حالت میں آج کل کے آلات دور بین نہایت دور کے ستاروں کا بھی پتہ لگاتے جاتے ہیں اور چاند اور سورج کو ایسا دکھا دیتے ہیں کہ گویا وہ پانچ چارکوس پر ہیں تو پھر تعجب کا مقام ہے کہ با وجود یکه آسمان یونانیوں کے زعم میں ایک کثیف جو ہر ہے اور ایسا کثیف جو البقرة : ٣٢ الملک : ۶