آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 137
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۳۷ آئینہ کمالات اسلام اور لحاظ کے فقط کم کرنے کیلئے بھی آیا ہے جیسا کہ اللہ جل شانۂ قرآن کریم میں ایک (۱۳۷) دوسرے مقام میں فرماتا ہے وَلَمْ تَظْلِمُ مِنْهُ شَيْئًا اى و لم تنقص اور خدا تعالی کی راہ میں نفس کے جذبات کو کم کرنا بلا شبہ ان معنوں کی رو سے ایک ظلم ہے ماسوا اس کے ہم ان کتب لغت کو جو صد ہا برس قرآن کریم کے بعد اپنے زمانہ کے محاورات کے موافق طیار ہوئی ہیں قرآن مجید کا حکم نہیں ٹھہرا سکتے ۔ قرآن کریم اپنی لغات کیلئے جو الہی کلام کو دلوں تک پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے آیت فَالْمُدَبَّرَاتِ أَمْرًا میں فرشتوں اور ستاروں کو ایک ہی جگہ جمع کر دیا ہے یعنی اس آیت میں کو اکب سبع کو ظاہری طور پر مد بر مافی الارض ٹھہرایا ہے اور ملائک کو باطنی طور پر ان چیزوں کا مدبر قرار دیا ہے۔ چنانچہ تفسیر فتح البیان میں معاذ بن جبل اور قشیری سے یہ دونوں روایتیں موجود ہیں اور ابن کثیر نے حسن سے یہ روایت ملائک کی نسبت کی ہے کہ تدبر الامر من السماء الى الارض یعنی آسمان سے زمین تک جس قدرا مور کی تدبیر ہوتی ہے وہ سب ملائک کے ذریعہ سے ہوتی ہے اور ابن کثیر لکھتا ہے کہ یہ متفق علیہ قول ہے کہ مدبرات امر ملائک ہیں۔ اور ابن جریر نے بھی آیات فَالْمُدَبْراتِ امرا کے نیچے یہ شرح کی ہے کہ اس سے مراد ملائک ہیں جو مد بر عالم ہیں یعنی گو بظاہر نجوم اور شمس و قمر و عناصر وغیرہ اپنے اپنے کام میں مشغول ہیں مگر در حقیقت مد بر ملائک ہی ہیں۔ اب جبکہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے رو سے یہ بات نہایت صفائی سے ثابت ہو گئی کہ نظام روحانی کیلئے بھی نظام ظاہری کی طرح موثرات خارجیہ ہیں جن کا نام کلام الہی میں ملائکہ رکھا ہے تو اس بات کا ثابت کرنا باقی رہا کہ نظام ظاہری میں بھی جو کچھ ہورہا ہے ان تمام افعال اور تغیرات کا بھی انجام اور انصرام بغیر فرشتوں کی شمولیت کے نہیں ہوتا سو منقولی طور پر تو اس کا ثبوت ظاہر ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں کا نام مدبرات اور مقسمات امر رکھا ہے اور ہر یک النازعات : ٦