آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 128
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۲۸ آئینہ کمالات اسلام ۱۲۸ اندازہ کر رکھا تھا۔ یہ دونوں قسم کے نقص جو ہم نے بیان کئے ہیں قرآن کریم بلکلی ان سے مبرا ہے کیونکہ قرآن کریم کے اتارنے سے اللہ جل شانہ کا یہ مقصد تھا کہ وہ تمام بنی آدم اور تمام زمانوں اور تمام استعدادوں کی اصلاح اور تکمیل اور تربیت کر سکے اور اسلام کی پوری شکل اور پوری عظمت بنی آدم پر ظاہر ہو اور اس کے ظہور کا وقت بھی آپہنچا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کو تمام قوموں اور تمام ان زمانوں کیلئے جو قیامت تک آنے والے تھے ایک کامل اور جامع قانون کی طرح نازل فرمایا اور ہر یک درجہ کی استعداد کیلئے افادہ اور افاضہ کا دروازہ کھول دیا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَبَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمُ لِنَفْسِهِ ۚ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقُ بِالْخَيْرُتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ذَلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ اجرام علوی اور اجسام سفلی کیلئے منجانب اللہ مدبر مقرر ہیں جن کو دوسرے لفظوں میں ملائک کہتے ہیں اور جب تک کوئی انسان پابند اعتقاد وجود ہستی باری ہے اور دہر یہ نہیں اس کو ضرور یہ بات ماننی پڑے گی کہ یہ تمام کاروبار عبث نہیں بلکہ ہر یک حدوث اور ظہور پر خدا تعالی کی حکمت اور مصلحت بالا رادہ کا ہاتھ ہے اور وہ ارادہ تمام انتظام کے موافق بتوسط اسباب ظہور پذیر ہوتا ہے چونکہ خدا تعالیٰ نے اجرام اور اجسام کو علم اور شعور نہیں دیا اس لئے ان باتوں کے پورا کرنے کیلئے جن میں علم اور شعور درکار ہے ایسے اسباب یعنی ایسی چیزوں کے توسط کی حاجت ہوئی جن کو علم اور شعور دیا گیا ہے اور وہ ملائک ہیں ۔ اب ظاہر ہے کہ جب ملائک کی یہی شان ہے کہ وہ عبث اور بے ہودہ طور پر کوئی کام نہیں کرتے بلکہ اپنی تمام خدمات میں اغراض اور مقاصد رکھتے ہیں اس لئے ان کی نسبت یہ بات ضروری طور پر ماننی پڑے گی کہ رجم کی خدمت میں بھی ان کا کوئی اصل مقصد ہے اور چونکہ عقل اس بات کے درک سے قاصر ہے کہ وہ کون سا مقصد ہے اس لئے فاطر :۳۳