آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 124

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۲۴ آئینہ کمالات اسلام (۱۲۴) فساد کو دیکھیں کہ ایسا عقیدہ رکھنے سے یہ لازم آتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام اکثر اوقات فیض وحی سے محروم اور معطل رہیں تو پھر نہایت بے شرمی ہوگی کہ اس عقیدہ کا خیال بھی دل میں لاویں۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی مدارج النبوت کے صفحہ ۸۳ میں لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کلمات و حدیث وحی خفی ہیں باستثناء چند مواضع یعنی قصہ اسا رائے بدر و قصہ ماریہ وعسل و تا بیر نخل جو نادر اور حقیر ہیں ۔ اور پھر اسی صفحہ میں لکھتے ہیں کہ اوزاعی حسان بن عطیہ سے روایت کرتا ہے کہ نزول جبرائیل قرآن سے مخصوص نہیں بلکہ ہر یک سنت نزول جبرائیل سے ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اجتہاد بھی وحی میں سے ہے۔ اور پھر صفحہ ۸۷ میں لکھتے ہیں کہ صحابہ آنحضرت صلحم کے ہر یک قول و فعل قلیل و کثیر و صغیر و کبیر کو وحی سمجھتے تھے ۔ اور اُس پر عمل کرنے میں سلف صالح کا یہ مذہب تھا کہ آنحضرت صلم کی تمام عمر کے اقوال وافعال وحی سے ہیں جبکہ باوجود اجتماع اسباب کے نتیجہ بر عکس نکلتا ہے یا وہ اسباب اپنے اختیار اور تد بیر سے باہر ہو جاتے ہیں مثلاً ایک طبیب نہایت احتیاط سے ایک بیمار بادشاہ کا علاج کرتا ہے یا مثلاً ایک گروہ طبیبوں کا ایسے مریض کیلئے دن رات تشخیص مرض اور تجویز دوا اور تدبیر غذا میں ایسا مصروف ہوتا ہے کہ اپنے دماغ کی تمام عقل اس پر خرچ کر دیتا ہے مگر جب کہ اس بادشاہ کی موت مقدر ہوتی ہے تو وہ تمام تجویز میں خطا جاتی ہیں اور چند روز طبیبوں اور موت کی لڑائی ہو کر آخرموت فتح پاتی ہے اس طور کے ہمیشہ نمونے ظاہر ہوتے رہتے ہیں مگر افسوس کہ لوگ ان کو غور کی نظر سے نہیں دیکھتے بہر حال یہ ثابت ہے کہ قادر مطلق نے دنیا کے حوادث کو صرف اسی ظاہری سلسلہ تک محصور اور محدود نہیں کیا بلکہ ایک باطنی سلسلہ ساتھ ساتھ جاری ہے۔ اگر آفتاب ہے یا ماہتاب یا زمین یا وہ بخارات جن سے پانی برستا ہے یا وہ آندھیاں جو زور سے آتی ہیں یا وہ اولے جو زمین پر گرتے ہیں یا وہ شہب ثاقبہ جوٹوٹتے ہیں اگر چہ یہ تمام چیزیں اپنے کاموں اور تمام تغیرات اور تحولات اور حدوثات