آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 121
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۲۱ آئینہ کمالات اسلام کا افاضہ مع جمیع صفات کا ملہ اپنی کے کر کے تمثل کے طور پر اس میں اپنے تئیں ظاہر کر دیتے (۱۲۱) تھے یعنی دحیہ کلبی کی صورت میں بطور تمثل اپنے تئیں دکھلا دیتے تھے اور اس صورت علمیہ کو اپنی صفات سے متلبس کر کے نبی علیہ السلام پر تمثلاً ظاہر کر دیتے تھے یہ نہیں کہ جبرائیل آپ اپنے اصلی وجود کے ساتھ آسمان سے اترتا تھا بلکہ جبرائیل علیہ السلام اپنے مقام پر آسمان میں ثابت و قائم رہتا تھا اور یہ جبرائیل اس حقیقی جبرائیل کی ایک مثال تھی یعنی اس کا ایک ظل تھا اس کا عین نہیں تھا کیونکہ عین جبرائیل تو وہ ہے جو اپنی صفات خاصہ کے ساتھ آسمان پر موجود ہے اور اس کی حقیقت اور شان الگ ہے۔ پھر اس قدر تحریر کے بعد شیخ صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ جس طرح جبرائیل علیہ السلام تمثلی صورت میں نہ حقیقی صورت میں نازل ہوتا رہا ہے۔ یہی مثال روحانیات کی ہے جو بصورت جسمانیات متمثل ہوتی ہیں اور یہی مثال خدا تعالیٰ کے مخصوص نہیں کہ کوئی نبی یا وارث نہبی اصلاح دین کیلئے پیدا ہو بلکہ اس کے ضمن میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اس نبی یا وارث اور قائم مقام نبی کے ارہا صات پر بھی کثرت شہب ہوتی ہے بلکہ اس کی نمایاں فتوحات پر بھی کثرت سقوط شبب ہوتی ہے کیونکہ اس وقت رحمان کا لشکر شیطان کے لشکر پر کامل فتح پالیتا ہے۔ پس جب ایسے بڑے بڑے امور پیدا ہونے لگتے ہیں کہ اس نبی یا وارث نبی کیلئے بطور ا رہاص ہیں یا اس کی کارروائیوں کے اول درجہ پر محمد اور معاون ہیں یا اس کی فتح یابی کے آثار ہیں تو ان کے قرب زمانہ میں بھی کثرت سقوط شہب وغیرہ حوادث وقوع میں آجاتے ہیں تو اس صورت میں ہر یک نبی کو بھی یہ بات صفائی سے سمجھ میں آ سکتی ہے کہ در حقیقت یہ کثرت سقوط شبب روحانی سلسلہ کی متفرق خدمات کیلئے اور ان کے اول یا آخر یا درمیان میں آتی ہے اور وہ سلسلہ ہمیشہ جاری ہے اور جاری رہے گا ۔ مثلاً حال کے یورپ کے ہئیت دان جو ۲۷ /نومبر ۱۸۸۵ء کے شہب یا انیسویں صدی کے دوسرے واقعات شہب کا ذکر کرتے ہیں اور ان پر ایسا زور دیتے ہیں کہ