آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 117

روحانی خزائن جلده 112 آئینہ کمالات اسلام بالآخر ہم چند اقوال پر اس مضمون کو ختم کرتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سلف 11 صالح کا ہرگز یہ عقیدہ نہ تھا کہ روح القدس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص خاص وقتوں پر نازل ہوتا تھا اور دوسرے اوقات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے نعوذ باللہ بکلی محروم ہوتے تھے از انجملہ وہ قول ہے جو شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب مدارج النبوۃ کے صفحہ ۴۲ میں لکھا ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ ملائک وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دائگی رفیق اور قرین ہیں چنانچہ وہ جامع الاصول اور کتاب الوفا سے نقل کرتے ہیں کہ ابتدائے نبوت سے تین برس برابر حضرت اسرافیل ملازم صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رہے اور پھر حضرت جبرائیل دائی رفاقت کے لئے آئے اور بعد اس کے صاحب سفر السعادت سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سات سال کے تھے جب حضرت اسرافیل کو اللہ جل شانہ کی طرف سے کوئی تاریخ مقرر نہیں کر سکتے مگر قیاسا معلوم ہوتا ہے کہ اس حادثہ کی ابتدا جون کے مہینہ سے ہوگی کیونکہ گو ہم اس پرانے واقعہ کی تشخیص میں عیسائیوں کے مختلف فیہ بیانات سے کو ئی عمدہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے مگر استنباط کے طور پر یہ پتہ ملتا ہے کہ حضرت مسیح جب یہودیوں کے ہاتھ میں گرفتار ہوئے تب شدت گرمی کا مہینہ تھا کیونکہ گرفتاری کی حالت میں اُن کا سخت پیاسا ہونا صاف ظاہر کر رہا ہے کہ موسم کا یہی تقاضا تھا کہ گرمی اور پیاس محسوس ہو ۔ سو وہ مہینہ جون ہے کیونکہ اُس وقت ایک سخت آندھی بھی آئی تھی جس کے ساتھ اندھیرا ہو گیا تھا اور جون کے مہینہ میں اکثر آندھیاں بھی آتی ہیں ۔ اب اس تمام تحقیقات سے معلوم ہوا کہ در حقیقت کائنات الجو بالخصوص شبب ثاقبہ اور دمدار ستاروں کے بارے میں کوئی قطعی اور یقینی طریق بصیرت ہیئت دانوں اور طبعی والوں کو اب تک ہاتھ میں نہیں آیا جب کبھی اُن کے قواعد الوفا وشهادة صاحب سفر السعادة وغیرہ لکھا ہے کہ آنحضرت صلعم سے ملائک وحی جدا نہیں ہوتے تھے اور آنحضرت کے لئے جبرائیل علیہ السلام دائمی قرین تھا۔۔ C