آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 104

روحانی خزائن جلده ۱۰۴ آئینہ کمالات اسلام (۱۰۴) هاجهم وجبرائیل معک یعنی اے حسان کفار کی بد گوئی کا بدگوئی کے ساتھ جواب علماء اسلام کا یہ عقیدہ کہ حضرت عیسی کے ساتھ روح القدس ہر دم اور ہر وقت رہتا تھا دے اور جبرائیل تیرے ساتھ ہے۔ اب ان احادیث سے ثابت ہوا کہ حضرت جبرائیل حستان کے ساتھ رہتے تھے اور ہر دم اُن کے رفیق تھے اور ایسا ہی یہ آیت کریمہ بھی کہ اَيَّدَهُمْ بِرُوحِ مِنْهُ صاف اور گھلے گھلے طور پر بتلا رہی ہے کہ روح القدس مومنوں کے ساتھ رہتا تھا۔ کیونکہ اسی قسم کی آیت جو حضرت عیسی کے حق میں آئی ہے یعنی وَاَيَّدُ نُهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ سے اس کی تفسیر میں تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ روح القدس ہر وقت قرین اور رفیق حضرت عیسی کا تھا اور ایک دم بھی اُن سے جدا نہیں ہوتا تھا دیکھو تفسیر حسینی تفسیر مظہری تفسیر عزیزی معالم ابن کثیر وغیرہ اور مولوی صدیق حسن فتح البیان میں اس آیت کی تفسیر میں یہ عبارت لکھتے ہیں و کان جبرائيل يسير مع عيسى حيث سار فلم يفارقه اُن میں پھیل گئے تھے نہایت شدید اعتقاد سے ان باتوں کو مانتے تھے کہ جس وقت کثرت سے ستارے یعنی شہب گرتے ہیں تو کوئی بڑا عظیم الشان انسان پیدا ہوتا ہے خاص کر اُن کے کا ہن جو ارواح خبیثہ سے کچھ تعلق پیدا کر لیتے تھے اور اخبار غیبیہ بتلایا کرتے تھے اُن کا تو گویا پختہ اور یقینی عقید ہ تھا کہ کثرت مہب یعنی تاروں کا معمولی اندازہ سے بہت زیادہ ٹوٹنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کوئی نبی دنیا میں پیدا ہونے والا ہے اور ایسا اتفاق ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت حد سے زیادہ سقوط شب ہوا جیسا کہ سورۃ الجن میں خدا تعالیٰ نے اس واقعہ کی شہادت دی ہے اور حکایتا عن الجنّات فرمایا ہے۔ وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءِ فَوَجَدْنَهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْلَهُ المجادلة :٢٣ البقرة : ٨٨