آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 96

روحانی خزائن جلده ۹۶ آئینہ کمالات اسلام (91) حملہ کرنے کا موقعہ دے دیا۔ اگر یہ لوگ اس بات کو قبول کر لیتے کہ کوئی فرشتہ بذات خود ہر گز نازل نہیں ہوتا بلکہ اپنے ظلمی وجود سے نازل ہوتا ہے جس کے تمثل کی اس کو طاقت دی گئی ہے جیسا کہ دحیہ کلبی کی شکل پر حضرت جبرائیل متمثل ہو کر ظاہر ہوتے تھے اور جیسا کہ حضرت مریم کے لئے فرشتی متمثل ہوا تو کوئی اعتراض پیدا نہ ہوتا اور دوام نعم القرین پر کوئی شخص جرح نہ کر سکتا اور تعجب تو یہ ہے کہ ایسا خیال کرنے میں قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے بالکل یہ لوگ مخالف ہیں قرآن کریم ایک طرف تو ملا یک کے قرار اور اثبات کی جگہ آسمان کو قرار دے رہا ہے اور ایک طرف یہ بھی بڑے زور سے بیان فرما رہا ہے کہ روح القدس کامل مومنوں کو تائید کے لئے دائمی طور پر عطا کیا جاتا ہے اور اُن سے الگ نہیں ہوتا گوہر یک شخص اپنے فطرتی نور کی وجہ سے کچھ نہ کچھ روح القدس کی چمک اپنے اندر رکھتا ہے مگر وہ چمک عام لوگوں میں شیطانی ظلمت کے نیچے آ جاتی اور خدا تعالیٰ کی قسموں کی حقیقت اور وہ معرفت کا دقیقہ جو ان قسموں میں چھپا ہوا ہے تمام کتابوں میں انسان کیلئے یہی تعلیم ہے کہ غیر اللہ کیہر گرفتم نہ کھاوے۔ اب ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی قسموں کا انسان کی قسموں کے ساتھ قیاس درست نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا تعالی کو انسان کی طرح کوئی ایسی مشکل پیش نہیں آتی کہ جو انسان کو قسم کے وقت پیش آتی ہے بلکہ اس کا قسم کھانا ایک اور رنگ کا ہے جو اُس کی شان کے لائق اور اُس کے قانون قدرت کے مطابق ہے اور غرض اُس سے یہ ہے کہ تا صحیفہ قدرت کے بدیہات کو شریعت کے اسرار دقیقہ کے حل کرنے کے لئے بطور شاہد کے پیش کرے اور چونکہ اس مدعا کو قسم سے ایک مناسبت تھی اور وہ یہ کہ جیسا ایک قسم کھانے والا جب مثلاً خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا ہے تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ میرے اس واقعہ پر گواہ ہے اسی طرح خدا تعالی کے بعض کھلے کھلے افعال بعض چھپے ہوئے افعال پر گواہ ہیں اس لئے اس نے قسم کے رنگ میں اپنے افعال بدیہیہ کو اپنے افعال نظریہ کے ثبوت میں جا بجا